السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین مسئلہ کے بارے میں لا الہ الا اللہ کہنا ثابت ہے حق لا الہ الا اللہ کہاں سے کہنا ثابت ہیں کچھ لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں حق لا الہ اللہ کہنا بدعت ہے جواب قرآن و حدیث کی روشنی عنایت فرمائیں
المستفتی منور رضا اورنگ آباد اسلامی معلومات گروپ سے.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
جس طرح لاالہ الاللہ کہنا ثابت ہے اسی طرح حق لاالہ الااللہ کہنا بھی ثابت ہے کیونکہ حق کے معنی ہے سچا ٹھیک صحیح واقع کے مطابق بطور صفت استعمال ہوتا ہے جیسے قول حق کہتے ھو العالم حق العالم وہ زبر دست عالم ہے ھو حق بکذا وہ اس کا حق دار یا اس کے لائق ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ حق لاالہ الااللہ کہنا کسی اور کے لئے کہنے سے زیادہ حق دار ہے کہ رب کو حق لاالہ الااللہ کہے۔اور جو بدعت کہتا ہے اس کا اپنا ہی عقیدہ درست نہیں ہے اگر ہوتا تو وہ کبھی یہ جملہ بولتا ہی نہیں۔
ھذا ماظھرلی وھو سبحانہ وتعالیٰ واحکم واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری خادم دارالافتاء سنی شرعی بورڈ آف نیپال ۱۹ ربیع الغوث ۱۴۴۲ ہجری ۰۵ دسمبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز ہفتہ
