12.24.2020

مسجد کے نل سے اپنی ضرورت پوری کرنا کیسا ہے

 


السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت و مفتیان کرام۔ کی مسجد کے اندر ہینڈ پائپ لگا ہے اور محلے کے لوگ اس مسجد کے نل سے اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں یعنی مسجد کے نل سے پانی لینا اور گھر کے لۓ استعمال کرنا کیسا ہے۔ مسجد کا کوئ سامان محلے کے لوگ استعمال کرسکتے ہیں کہ نہیں جواب عنایت فرمائیں کتاب و سنت کے حوالے سے۔


Iftekhar Razvee purniya Bihar

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ

الجواب بعون الملک الوھاب 

شہزادہ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کـہ، مسجد کے نل کے پانی کی قیمت اگر مسجد کے مال سے ادا کی جاتی ہو تو اپنے گھروں کو وہ پانی لے جانا جائز نہیں ہے۔( فتاوی مصطفویہ جلد اول ص ۲۶۹) فقیہ اعظم ہند حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ جاڑوں میں اکثر جگہہ مسجد میں پانی گرم کیا جاتا ہے تاکہ مسجد میں جو نمازی آئیں اس سے وضو غسل کریں یہ پانی وہیں استعمال کیا جا سکتا ہے گھر لے جانے کی اجازت نہیں بعض لوگ تازہ پانی بھر کر مسجد کے لوٹوں میں گھر کو لے جاتے ہیں یہ بھی ناجائز ہے ( بہار شریعت جلد ۳ حصہ ۱۶ ص ۳۸۷ پانی پینے کا بیان مکتبۃ المدینہ ماخوذ ضیاء شریعت جلد دوم ص ۱۰۳) 


واللہ و رسولہ اعلم باالصواب 


کتبــــہ فقیر محمد محبوب عالم امجــدی مقام آزاد نگر نچلول ضلع مہراجگنج یوپی الہند .

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only