12.04.2020

قبرستان میں اسپرو یعنی دوا چھڑکنا کیسا ہے



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ قبرستان میں اسپرو یعنی دوا چھڑکنا گھاس جلانے کے لئے کیسا ہے مع حوالہ جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں


سائل محمد کاشف رضوی پیلی بھیت

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

،وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ

الجواب بعون الملک الوھابــــ

بلاوجہ قبرستان کی تر گھاس ختم کرنے کیلئے قبرستان میں دوا وغیرہ ڈالنا جائز نہیں تاجدار اہلسنت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں کـــہ قبرستان میں جو گھاس اگتی ہے جب تک سبز یعنی ہری ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کے لئے بھی بھیج سکتے ہیں(فتاوی رضویہ جلد ۶ص ۴۹۲) قبر پر سے تر گھاس نوچنا نہ چاہیئے کہ اس کی تسبیح سے رحمت اترتی ہے اور میت کو انس ہوتا ہے ردالمحتار جلد ۳ ص ۱۸۳ فقیہ اعظم ہند حضور صدرالشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ تر درخت قبرستان سے کاٹنا مکروہ ہے اور درخت خشک ہو جائے تو کاٹنے میں حرج نہیں (فتاوی امجدیہ جلد ۴ ص ۱۹۲ (ماخوذ ازضیاء شریعت جلد اول ص ۱۶۷) ہاں اگر گھاس اس طرح ہو کی زائرین کو دقت ہو آنے جانے والے کو تکلیف ہوتی ہو یا موزی جانوروں کی وجہ سے نقصان پہنچنے کا ظن غالب ہو ایسی صورت میں خاص قبر کے اوپر چھوڑ کر ان پر دوا چھیڑک سکتے ہیں 


واللہ اعلم بالصواب 


کتبــــہ فقیر محمد محبوب عالم امجــدی مقام آزاد نگر نچلول ضلع مہراجگنج یوپی الہند رابطہ نمبر ۔

7991712002 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only