12.31.2020

نئے سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے

 


اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انگریزی نئے سال کی مبارک باد دینا جائز ہے یا نہیں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 


محمد حسنین رضا ازہری پیلی بھیتی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

الجواب بعون الملك الوهاب

عیسوی نئے سال کی مبارک باد دینا جائز ہے شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے کیونکہ یہ کلمات دعائیہ ہے جا کا.مطلب ہے یہ سال آپ کے لئے مبارک ہو خیر سے گزرے.ہاں اگر کوئی شخص اس طور پر مبارک باد دیتاہے یہ انگریزوں کا بنا ہوا ہےاور اس تعظیم کی نیت سے مبارک باد دیتاہےیہ درست نہیں ہے لیکن کوئی مسلمان بھی اس نیت سے مباک باد نہیں دیتا ہےحضرت علامہ مولانا مفتی نظام الدین تحریر فرماتے ہیں نئے سال کی مبارکباد دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ سال آپ کے لئے مبارک رہے خیر سے گزرے یہ جائز ہے کہ دعائے خیر ہےہاں اگر کوئی انگریزوں کے بنائے ہوئے ماہ و سال کی تعظیم کے لیے کہے تو مکروہ ہےمگر عام طور پہ مسلمان یہ نیت نہیں رکھتےبلکہ ان کا مقصد دعائے خیر ہوتا ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں (سراج الفقہا کی دینی مجالس کتاب الخطر والاباحه صفحہ 144)


والله اعلم ورسوله اعلم باالصواب


كتبه عبده المذنب عفى عنه فقيرمحمد انعام الحق رضا قادرى مرادآباد یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only