1.15.2021

عورت کو عدت کے دوران کیا نہیں کرنا چاہیٸے ؟



 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام کہ عورت کو عدت کے دوران کیا نہیں کرنا چاہیٸے ؟ عدت کی تفصیل بھیجیں مع حوالہ۔ مہربانی ھوگی ۔


 المستفتی محمد عبد الجلیل اشرفی دیناجپور ممبر آف 1️⃣گروپ یارسول اللہﷺ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

عورت خواہ عدت طلاق میں ہو یا عدت وفات میں اسے ایام عدت میں کچھ باتوں کا التزام ضروری ہے مثلا بلاوجہ شرعی گھر سے نہیں نکل سکتی بلکہ بلا وجہ شرعی اسے نکلنا حرام ہے جیساکہ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں عورت کو زمانہ عدت میں گھر سے نکلنا حرام ہے ہاں اگر عدت موت کی ہو اور اس کے پاس کھانے کو نہ ہوبغیر گھر سے نکلے کام نہ چل سکے گا یا نقصان پہنچیگا تو اس ضرورت سے اس کے لئے جا سکتی ہے،اور رات اسی گھر میں گزارے اور بے ضرورت شرعیہ نکلنا حرام ہے(فتاویٰ امجدیہ ۲ ص۲۸۵) اور بہار شریعت میں فرماتے ہیں سوگ کے یہ معنی ہیں کہ زینت کو ترک کرے یعنی ہر قسم کے زیور سونے چاندی جواہر وغیرہا کے اور ہر قسم اورہر رنگ کے ریشم کے کپڑے اگر چہ سیاہ ہوں نہ پہنے اور خوشبو کا بدن یا کپڑوں میں استعمال نہ کرے اور نہ تیل کا استعمال کرے اگر چہ اس میں خوشبو نہ ہو جیسے روغن زیتون اور کنگھا کرنا اور سیاہ سرمہ لگانا یوہیں سفید خوشبودار سرمہ لگانا اور مہندی لگانا اور زعفران یاکسم یا گیروکارنگاہوا یا سرخ رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے ان سب چیزوں کا ترک واجب ہے یوہیں پڑیا کا رنگ گلابی دھانی چمپئ اور طرح طرح کے رنگ جن میں تزین ہوتا ہے سب کو ترک کرے (بہارشریعت ج2 ص 242) اور سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ ایک سوال (عورتوں میں یہ بات مشہور ہے کہ بیوہ دوران عدت اپنے گھر جس میں مردہ شوہر کے انتقال کے وقت تھی کسی دوسری جگہ پڑوس میں،یا شادی یا موت میں کسی بھی عزیز کے یہاں نہیں جائےگی نہ نیا کپڑا پہنےگی نہ سر میں تیل ڈالے گی،نہ چوڑیاں پہنے گی نہ سرمہ لگائےگی براہ کرم عدت کے شرعی احکام سے نوازیں الخ) کے جواب میں رقمطراز ہیں عدت طلاق ہو ،یا عدت وفات،عدت کے اندر بے عذر شرعی عورت گھر سے نہیں نکل سکتی عورتوں میں یہ مشہور ہے تو صحیح ہے(فتاویٰ مفتی اعظم ہند ۴ص۴۱۰)لہذا عدت کے دوران عورت بلا عذر شرعی گھر سے نہیں نکل سکتی زیب وزینت نہیں کر سکتی اور کسی عذر کے سبب باہر جائے تو خیال رہے کہ رات کا اکثر حصہ اپنے شوہر کے گھر میں ہی گزارے ایساہی فتاویٰ فقیہ ملت ۲ص۶۷پر ہے


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب


کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی کشن گنج بہار 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only