1.16.2021

کھانا کھانے کی دعا کب پڑھنی چاہئیے شروع میں یا درمیان میں


 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں جو کھانا کھانے کی یہ دعا ہے بسم اللہ وعلی برکت اللہ ۔۔ اس دعا کو کھانا کھانے سے پہلے پڑھنا چاہیے یا ایک یا دو لقمے کھانا کھانے کے بعد پڑھنا چاہیے سوال کا جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں 

سائل محمد ذاکر حسین لکھنؤ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

کھانا کھانے سے پہلے دعا پڑھنا ہے اور یہی سنت بھی ہے۔اب چاہے وہ دعا بسم اللہ وعلی برکت اللہ والی ہو یا کوئی اور دعا کھانے کی جو دعا ہے وہ پہلے ہی پڑھا جائے گا۔حدیث میں ہے جب کھانا لا کر رکھا جائے کہو بسم ﷲ وباﷲ بسم ﷲ خیرالاسماء فی الارض وفی السماء لایضر مع اسمہ داء اجعل فیہ رحمۃ وشفاء ۲؎ اللہ تعالٰی کے بابرکت نام سے اور اس کی مقدس ذات سے۔ اللہ تعالٰی کے نام سے کہ زمین وآسمان میں جس کے سب سے اچھے نام ہیں، اس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری تکلیف نہیں دیتی۔ اللہ تعالٰی اس میں شفاء اور رحمت فرمائے۔ یہ دعا نہیں تو کیا ہے حوالہ فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ نمبر 666 دعوت اسلامی مذکورہ حدیث پاک کے مطابق رضائے الٰہی کے حصول کے لیے کھانے سے پہلے دعا پڑھنی ہے ایک دو لقمہ کھا کر نہیں۔ ہاں اگر بھول جائے تو بسم اللہ اولہ وآخرہ پڑھے یا بسم فی اولہ وآخرہ۔ دعا پڑھے اور ہر لقمہ پر یَاوَاجِدُ کہنے کی بھی ترغیب دلاتے ہیں کہ روایات کے مطابق کھانا کھاتے وقت ہر نوالے پر یَاوَاجِدُ پڑھنے سے وہ کھانا پیٹ میں نور ہوگا اور مرض دور ہوگا ۔ (حوالہ فیضان ریاض الصالحین ج ۴)


واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری خادم دارالافتاء سنی شرعی بورڈ آف نیپال ۲۶ ربیع الاول ۱۴۴۲ ہجری ۱۳ جنوری ۲۰۲۱ عیسوی بروز بدھ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only