1.15.2021

کیا مطلقہ تمام دیوبندی کافر ہیں ؟ نیز یہ کہ دیوبندی کسے کہتے ہیں ؟


اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ 

سوال : کیا انکار کرنے سے مسلمان کفر کی حد تک چلا جاتا ہے ؟ سوال : کیا مطلقاً تمام دیوبندی کافر ہیں ؟ نیز یہ کہ دیوبندی کسے کہتے ہیں ؟ سوال جو حضرت خود کو دیوبندی کہتے ہیں مگر علمائے دیوبند کی کفری عبارتوں سے واقف نہیں ہیں کیا ایسے حضرات کافر ومرتد ہیں ؟ اور ایسے لوگوں کی نماز جنازہ وپڑھنی کفر ؟ 


سائل : مولانا محمد بشیر مدھوپور جھارکھنڈ 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرْکَتَہُ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کرنے سے کفر کی حد تک پہنچ جاتا ہے مثلاً نماز روزہ  زکوٰۃ  حج وغیرہ کے انکار سے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی کرنے سے کافر ومرتد ہوجائے گا ایسے لوگوں کی نماز جنازہ ونکاح وغیرہ پڑھنا وپڑھانا حرام ہے حضور نائب مفتئ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فتاویٰ شارح بخاری ارشاد فرماتے ہیں دیو بندی حقیقت میں وہ ہے جو رشید احمد گنگوہی خلیل احمد انبیٹھی قاسم نانوتوی  اشرف علی تھانوی کی عبارتوں پر مطلع ہوتے ہوئے بھی انہیں اپنا امام و پیشوا جانے یا کم از کم مسلمان ہی جانے اس لیے کہ ان لوگوں کی ان کفری عبارتوں میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح توہین ہے -اور شان الوہیت میں کھلی ہوئی گستاخی ہے مثال کے طور پر مولوی اشرف علی تھانوی نے حفظ الایمان صفحہ 8 پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو ہرکس وناکس حتی کہ بچوں اور پاگلوں انتہائی حقیر وذلیل چیزوں تمام حیوانات وبہائم کے علم سے تشبیہ دی یا اس کے برابر کہا  مولوی قاسم نانوتوی نے تحزیرالناس صفحہ 3 پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء بمعنی آخر الانبیاء ہونے کو چودہ طریقوں سے باطل کیا اور صفحہ 28 پر لکھا  بلکہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آ ئے گا اس کا حاصل یہ نکلا کہ نانوتوی صاحب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بمعنی آخرالانبیا نہیں مانتے مولوی رشید احمد گنگوہی نے اپنے ایک دستخطی مہری فتوے میں لکھ دیا جو یہ کہے کہ خدا جھوٹ بول چکا وہ گمراہ بھی نہیں فاسق بھی نہیں اور مسلمان کا اجماعی عقیدہ ہے کہ جو بھی شان الوہیت ورسالت میں ادنی سی گستاخی کرے وہ کافر ہے امام قاضی عیاض نے شفاشریف میں علامہ ابن عابدین شامی نے ردالمحتارعلی در مختار جلد 6 صفحہ 37 میں نقل فرمایا اجمع المسلمون علی ان شاتمہ کافر من شک فی کفرہ وعذابہ کفر مسلمانوں نے اس پر اجماع کیا ہے کہ جو شخص حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے وہ کافر ہے ایسا کہ جو اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ بھی کافر اسی بنا پر یہ چاروں تو کافر ہیں ہی ان کے علاوہ جو بھی ان چاروں کے کفریات میں سے کسی ایک پر قطعی یقینی حتمی طور پر مطلع ہو اور انہیں مسلمان جانے کافر نہ کہے تو وہ بھی کافر ہے  اور یہی علمائے عرب وعجم حل وحرم ہند وسندھ کا متفقہ فتویٰ ہے جو حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ میں بار بار چھپ چکا ہے اب دیوبندی وہ ہے جو ان کے مذکورہ بالا کفریات پر قطعی یقینی طور پر مطلع ہو پھر بھی ان چاروں کو یا ان چاروں میں سے کسی ایک کو اپنا پیشوا مانے یا کم از کم اس کو مسلمان جانے کافر نہ کہے ایسے ہی لوگوں کی نماز جنازہ پڑھنی یا دعا مغفرت کرنی بر بنائے مذہب صحیح کفر ہے علمائے اہلسنت جب دیوبندی بولتے ہیں تو ان کی مراد دیوبندیوں سے ایسا ہی شخص ہوتا ہے رہ گئے وہ لوگ ان چاروں کے کفریات میں سے کسی ایک پر مطلع نہیں انہیں قطعی یقینی اطلاع نہیں وہ صرف دیوبندی مولویوں کی ظاہری اسلامی صورت  ان کی نماز  روزوں  کو دیکھ کر انہیں عالم  مولانا جانتے ہیں ان کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں معمولات اہلسنت کو بدعت وحرام جانتے ہیں  وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں اور ان کا یہ حکم نہیں اگرچہ وہ اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی ان کو دیوبندی کہتے ہوں جیسے قادیانی ہیں کہ حقیقت میں ختم نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہیں مگر عرف عام میں بے پڑھے لکھے لوگ گورنمنٹ کے کاغذات میں ان کو مسلمان کہتے ہیں اور لکھتے ہیں عوام کا عرف مدار حکم نہیں حکم کا دارومدار حقیقی معنی پر ہے اس لیے ایسا شخص جو اپنے آپ کو دیوبندی کہتا ہو لوگ بھی اس کو دیوبندی کہتے ہوں  وہ ان چاروں علمائے دیوبند کو اپنا مقتدا وپیشوا مانتاہو حتی کہ اہلسنت کو بدعتی بھی کہتا ہو مگر ان چاروں کے کفریات پر مطلع نہیں تو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں اس کا یہ حکم نہیں کہ یہ شخص کافر ہے یا اس کی نماز جنازہ پڑھنی کفر ہے ایسا ہی فتاویٰ شارح بخاری جلد دوم صفحہ 386 تا 389 پر ہے فتاویٰ شارح بخاری جلد سوم میں صاحب فتویٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ میرا تجربہ ہے کہ عوام الناس تو عوام الناس بہت سے پڑھے لکھے دیوبندی بھی ان عبارتوں سے واقف نہیں ہوتے، خصوصاً عورتیں تو ناواقف ہوتی ہیں - اس لیے جب تک تحقیق سے ثابت نہ ہوجائے کہ یہ عورت ان کفری عبارتوں پر مطلع ہے پھر بھی ان عبارتوں کے لکھنے والوں کا اپنا پیشوا مانتی ہے یا مسلمان جانتی ہے اس لیے عام دیوبندی کی لڑکیوں پر مرتدہ کا حکم لگانا درست نہیں (صفحہ 287) فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہے علمائے حرمین الشریفین نے بالاتفاق ان کی نسبت فرمایا ہے من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ہاں اگر واقع میں کوئی نووارد یا نرا جاہل یا ناواقف ایسا ہو جس کے کان تک یہ آوازیں نہ گیں اور وہ بوجہ ناواقفی محض انہیں کافر نہ سمجھا وہ اس وقت تک معذور ہے جبکہ سمجھا نے سے فوراً حق قبول کرلے ( ج : 9 ص : 313) نصف آخر قدیم) ان تمام عبارتوں سے یہی واضح ہوا کہ اگر وہابی دیوبندی وغیرہ مذکورہ مولویوں میں سے کسی ایک کے کفری عبارتوں سے آگاہ ہے یا رسول پاک کی شان میں تھوڑی سی بھی گستاخی کرتا ہے پھر بھی اس کو مسلمان مانتا ہے تو وہ کافر ومرتد ہے اور حقیقت میں وہی دیوبندی وغیرہ ہے اور اگر آگاہ نہیں ہے یا رسول پاک کی شان میں ذرہ برابر گستاخیاں نہیں کرتا ہے تو وہ حقیقت میں دیوبندی وغیرہ نہیں ہے ، اس کا نکاح وجنازہ وغیرہ پڑھنا پڑھانا درست ہے  مگرچونکہ گمراہ ہے لہذا حتی الامکان ایسے لوگوں کے نکاح وجنازہ سے پرہیز کرنا چاہیے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین  (الانعام ٦٨) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایاکم و ایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم (فتاوی شارح بخاری ج٣ ص٣٣١)

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب 


کتبہ عبدالستار سنی حنفی قادری رضوی عفی عنہ خادم الافتاء مدر سہ ارشد العلوم عالم بازار کلکتہ ٢٩ ربیع الغوث ١٤٤٢ھ 

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only