1.29.2021

مسجد کی سیڑی اسٹول کسی کو دینا کیسا ہے

اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ 

کیا فرماتے ہیں علماء دین مفتیان کرام اس میں مسجد کی سیڑی اسٹول وغیرہ وغیرہ کسی کو دینا کیسا ہے رہنمائی فرمائیں 

المستفتی سنی بلال

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎


الجواب بعون الملک الوھاب


صاحب بہار شریعت تحریر فرماتےہیں کہ مسجد کی اشیا مثلاً لوٹا چٹائی وغیرہ کو کسی دوسری غرض میں استعمال نہیں کرسکتے مثلاً لوٹے میں پانی بھر کر اپنے گھر نہیں لیجاسکتے اگرچہ یہ ارادہ ہو کہ پھر واپس کر جاؤں گا اُسکی چٹائی اپنے گھر یا کسی دوسری جگہ بچھانا نا جائز ہے۔ یوہیں مسجد کےڈول رسی سے اپنے گھر کے لیے پانی بھر نا یا کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے موقع اور بے محل استعمال کرنا نا جائز ہے( لھٰذی اب صاف ظاہر ہوگیا کہ مسجد کا سامان مسجد کےلیۓ وقف ہوتاہے مسجد کا کوٸ بھی سامان گھر لاکر استعمال کرنےکی شرع میں اجازت نہیں ہے )ماخوذ بہار شریعت جلد ٢ حصہ دہم مسجد کابیان 

 

واللہ تعالی عالم بالصواب


کتبہ محمدراحت رضانیپالی


✔️✔️الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی بلرامپوری عفی عنہ صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی خطیب و امام غوثیہ مسجد بھیونڈی مہاراشٹر

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only