اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

اپنے اولاد کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانا کیسا ہے



 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال ۔۔اگر کوئی شخص اپنے اولاد کے سر کے اوپر ہاتھ رکھ کےقسم کھالے کہ میں تمھارے گھر نہیں آؤنگا پھر اس نے احساس کیا کہ میں نے کیا کردیا۔۔تو شر ع کا کیا حکم ہے قسم ٹوٹنےکا۔۔۔جواب عنایت فرمائے

 المستفتی محمد ذیشان رضا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب 


شریعت میں ایسی قسموں کا اعتبار نہیں ہے اس طرح کی قسم کھانا مکروہ ہے بلکہ حدیث شریف میں ایسی قسم کے بارے وعید بیان کیا گیا ہے جیسا کہ حضور صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں کہ صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خدا کی قسم جو شخص اپنے اہل کے بارے میں قسم کھائے اور اوس پر قائم رہے تو اللہ عزوجل کے نزدیک زیادہ گنہگار ہے بہ نسبت اس کے کہ قسم توڑ کر کفارہ دیدےاور غیر خدا کی قسم مکروہ ہے اور یہ شرعاً قسم بھی نہیں یعنی اس کے توڑنے سے کفارہ لازم نہیں(بہار شریعت جلد دوم حصہ نہم صفحہ ٣٠١) صورت مسئولہ میں شخص مذکور اس کے گھر جا سکتا ہے اس لیے کہ اس کے قسم کا اعتبار نہیں ہے 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

العبد محمد عمران قادری تنویری عفی عنہ ١٥جماد الاولی ١٤٤٢// ٢٩ دسمبر ٢٠٢٠

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست