موجودہ امام کے ہوتے ہوئے دوسرے کو نماز پڑھانے کی اجازت دینا کیسا ہے



اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام کہ زید امامت کر رہا ھے اور اہل کمیٹی نے دوسرے امام کو منتخب کرد یااور مصلی امامت پرصدر اعلی نے نٸے ا مام کو آگے بڑھا دیا تو کیا موجودہ امام سےاجازت لیناضروری ھے یا نہیں ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں 

محمد عبدالجلیل اشرفی دیناجپور ممبر آف 1️⃣گروپ یارسول اللہ ﷺ


وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرْکَتَہُ


الجواب بعون الملک الوھاب 


صورت مذکورہ میں جو امام پہلے سے منتخب ہے اور ا س میں کوئی شرعی خرابی نہیں ھےتو پھر دوسرا امام منتخب کرنا جائز ہی نہیں یہ کمیٹی والوں کی خطا ہے وہ ہرگز ہر گزدوسرا امام منتخب نہ کریں ور نہ سب کےسب گنہگارہونگےاگرکسی کو امام منتخب نہیں کیا بلکہ ایک نماز کےلئےاسے آگے بڑھانا چاہ رہے ہیں تو کمیٹی والےکو ایسا کرنا بھی درست نہیں ہاں امام اپنی اجازت سے کسی کو بھی آگے کر سکتا ہے جبکہ وہ قا بل امامت ہو جیساکہ فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے کہ موجودہ امام کے اجازت کے بنا دوسرا شخص نماز نہ پڑھائیں کیونکہ موجودہ امام زیادہ افضل ہوتا ہے جبکہ وہ امام معیّن صالح امامت ہو یعنی سنّی صحیح العقیدہ کہ قرآن عظیم صحیح پڑھے اوراس کافسق ظاہر نہ ہو ۔دُرمختار میں ہےکہ امام المسجد الراتب الاولی بالامامۃ من غیرہ ملطقا :مسجدکامقررہ امام ہر حال میں دو سروں سےافضل ہوتا ہے (درمختار با ب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١/٨٣) رد المحتار میں ھے وفی ردالمحتار من التتارخانیۃ ما یفید المنع ان ام بلااذن  رد المحتار میں تتارخانیہ سے جو کچھ مذکور ہے وہ مفید منع ہے اگر دوسرابلا اجازت امامت نہ کرائے (رد المحتار بحوالہ تاتار خانیہ باب الاما مۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٤١٣)(بحوالہ فتاویٰ رضویہ شریف جلد 06 صفحہ نمبر 505 سوفٹویر)


 واللہ و رسولہ اعلم باالصواب


کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند


✔️✔️الجواب صحیح و صواب والمجیب نجیح و مثاب عنداللہ الوھاب محمد مقصود عالم فرحت ضیائ خلیفئہ حضور تاج الشریعہ و محد ث کبیر وخادم فخر ازہر دارالافتاء وا لقضاء وسرپرست اعلی جماعت رضائےمصطفی برانچ ہاسپیٹ.وڈو  کمپلی کرناٹک

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے