2.28.2021

عورت دو مرد رکھ سکتی ہے کہ نہیں



 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


علماء اکرام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ جیسے کہ ایک مرد دو یہ دو سے زائد شادیاں کرتے ہیں تو کیا اسی طرح ایک عورت دو مرد رکھ سکتی ہے کہ نہیں جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی

المستفتی حافظ محمد شفیع اوکاڑوی سورت گجرات انڈیا


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب الھم ہدایت الحق والصواب 

اللہ عز وجل قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے کہ ان الله لا يأمر بالفحشاء اھ پارہ 8 سورہ الاعراف آیت نمبر 28) بیشک اللہ عز و جل بے حیائی کا حکم نہیں فرماتا ایک عورت پر دو مردوں کا اجتماع صریح بے حیائی ہے جسے انسان تو انسان جانوروں میں بھی جو سب سے خبیث تر ہو یعنی خنزیر وہی روا رکھتا ہے حرمت زنا کی حکمت نسب کا محفوظ رکھنا ہے ورنہ پتا نہ چلے کہ بچہ کس کا ہے اگر عورت سے دو مردوں کا نکاح جائز ہو تو وہی قباحت کہ زنا میں تھی یہاں بھی عائد ہو معلوم نہ ہوسکے کہ بچہ دونوں میں سے کس کا ہے اھ(بحوالہ فتاوی افریقہ صفحہ نمبر 09/10) نوٹ معلوم ہوا کہ عورت ایک ساتھ دو مرد نہیں رکھ سکتی

واللہ و رسولہ اعلم باالصواب


کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only