دیوبندی سے علم حاصل کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا دوبندی سے علم حاصل کرنا کیسا ہے حدیث کی روشنی میں جواب طلب کر مہربانی ہوگی آپکی نام محمد عمران اختر مقام چکیا ضلع مشرقی چمپارن بہار

       جواب

وہابی دیوبندی سے تعلیم حاصل کرنا جائز نہیں حرام ہے " کیوں کہ دیوبندی وہابی اپنے کفریہ عقائد کی بنیاد پر اور ان کے اکابر جیسے مولوی قاسم نانوتوی مولوی رشیداحمد گونگوہی اشرف علی تھانوی خلیل احمد انبیٹھوی وغیرہ کے عقائد پر عمل کرنے کی وجہ سے کافر ومرتد ہے جس کی وضاحت حسام الحرمین و سواد اعظم کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جو اس کے کفر ہونے میں شک کرے وہ خود کافر ہے"من شک فی کفرہ وعذابه فقد کفر "اس لئے ان کے پاس جانا یا میل جول رکھنا ان کے مدرسے میں قرآن مجید یا اردو تعلیم وہابی دیوبندی مولوی حافظ کے پاس دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنا اور انہیں اپنا استاذ بتانا حرام ہے کہ بدمذہب کو استاذ بتانے میں ان کی تعظیم و توقیر ہے جو ناجائز وحرام ہے حدیث شریف میں ہے ایاکم وایاھم لا یضلونکم ولا یفتنونک یعنی تم ان سے الگ رہو وہ تم سے الگ رہے کہیں تمھیں گمراہ میں نہ ڈال دے کہیں تمہیں فتنہ میں نہ ڈالےحدیث شریف میں ہے "من وقر صاحب بدعة اعان على هدم الإسلام "یعنی جس نے کسی بدمذہب کی توقیر کی بیشک اس نے اسلام کو ڈھانے میں مدد کی "سرکار اعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دیوبندی وہابی سے تعلیم حاصل کرنا "حرام حرام حرام ہے اور جو ایسا کرے بد خواہ اطفال و مبتلا ئے آثام" قال اللہ تعالیٰ يايها الذين امنو قو انفسكم واهليكم نارا اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ "اھ

(فتاویٰ رضویہ شریف ج 23 ص 682 رضا فاؤنڈیشن " احکام شریعت ح 3 ص 261 شبیر برادرز اردو بازار لاہور)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد ریحان رضا رضوی

فرحاباڑی ٹیڑھاگاچھ وایہ بہادر گنج ضلع کشن گنج بہار انڈیا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے