دو بکروں کی قربانی کی نیت کر کے ایک کی قربانی کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں ایک عورت کے پاس چار بکرا ہے اس نے بکرے کی پیدائش کے وقت یہ نیت کی کہ اگر سب بچ گئے تو میں ان میں سے دو کی قربانی کرونگی لیکن اب وہ ایک بکرے کی قربانی کرنا چاہتی ہیں تو کیا ایک بکرے کی قربانی کرنی پڑے گی یا دونوں کی کرنی پڑے گی المستفتی محمد سرفراز احمد رضوی ممبر آف 2️⃣گروپ یارسول اللہﷺ

       جواب

ا صورت مسئولہ میں عورت پر اسی دونوں بکرے کی قربانی کرنا واجب ہے جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے عورت نے دو بکرے کی قربانی کی منت کو معلق رکھا چاروں بکرے کے زندہ رہنے رہنے پر جیسا کہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ منّت کی دو ۲ صورتیں ہیں : ایک یہ کہ اس کے کرنے کو کسی چیز کے ہونے پر موقوف رکھے مثلاً میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا یا خیرات کروں گا،دوم یہ کہ ایسا نہ ہو مثلاً مجھ پر اللہ (عزوجل) کے لیے اتنے روزے رکھنے ہیں یا میں نے اتنے روزوں کی منّت مانی۔ پہلی صورت یعنی جس میں کسی شے کے ہونے پر اوس کام کو معلق کیا ہو اس کی دوصورتیں ہیں اگر ایسی چیز پر معلق کیا کہ اوس کے ہونے کی خواہش ہے مثلاً اگر میرا لڑکا تندرست ہوجائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے

بہار شریعت جلد دوم حصہ نہم صفحہ ٣١٧
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد عمران قادری تنویری عفی عنہ

بلرام پور گونڈا الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے