کیا بچے کے شامل ہونے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارےمیں سات آٹھ یا نو سال کے لڑکے صفوں کے بیچ میں کھڑے ہونے سے کیا صف ٹوٹ جاتی ہے زید کا کہنا ہے صف بھی ٹوٹتی ہے اور لوگوں کی نماز بھی نہیں ہوتی ۔رہبری فرمائیں المستفتی محممد جمیل اختر وکانیر گجرات

       جواب

ذی شعور بچوں کا صف میں داخل ہونے سے نہ صف ٹوٹتی ہے اور نہ ہی نماز فاسد ہوتی ہے بلکہ بچے اگر مردوں کے صف میں کھڑے ہو جائیں تو نماز میں کوئ خلل واقع نہ ہوگی اور نماز ہو جائے گی

فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ ١٥٤
میں ہے بہتر یہ ہے کہ بچوں کو صف میں داخل ہونے سے روکا جائے اور اسے پیچھے کھڑے ہو نے کی تلقین کی جاۓ اور صرف ایک بچہ ہو تو علماء نے اسے صف میں داخل ہونے اور مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی اجازت دی ہے مراقی الفلاح میں ہے ان لم یکن جمع من الصبیان یقوم الصبی بین الرجل اھ اور جو بچے نماز سے خوب واقف ہوں ان کو صف سے نہیں ہٹانا چاہئے کچھ بے علم لوگ ہیں جو لڑکا پہلے سے نماز شامل ہوتا ہے اس کو ہٹا کر خود اس کی جگہ ہوجاتے ہیں یہ محض جہالت ہے اور ایسا کرنا ظلم ہے۔ اور زید کا یہ کہنا کہ سات یا نو سال کے بچوں کا صف داخل ہونے صف ٹوٹ جاتی ہے یہ بالکل غلط ہے زید کو چاہیے کہ توبہ کرے اور آئندہ بغیر علم کے مسئلہ نہ بتاۓ اس لیے کہ ایسا شخص سخت گنہگار اور عذاب نار کا حقدار ہے ۔ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے بغیر علم کے فتوی دیا تو آسمان و زمین کے فرشتے اُس پر لعنت بھیجتے ہیں

الجامع الصغیر صفحہ ۵۱۷ حدیث نمبر ۸۴۹۱
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد عمران قادری تنویری عفی عنہ

گونڈا الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے