7.16.2021

پیاز کھاکر نماز ادا کرنا کیسا؟؟؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علماء کی بارگاہ میں سوال ہے کہ پیاز کھاکر مسجد میں جانا اور نماز ادا کرنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی حافظ عمران ایوب لاہوری

       جواب

پیاز وغیرہ کھا کر مسجد جانا ممنوع ہے۔جب تک منہ سے بدبو دور نہ ہو جائے اسی طرح حُقّہ ، بیڑی، سگریٹ پینے اور (کچّے) لہسن، پیاز جیسی چیزیں کھانے والے بھی۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: منہ میں بدبو ہونے کی حالت میں نمازمکروہ ہے اور ایسی حالت میں مسجد میں جانا حرام ہے جب تک منہ صاف نہ کرے، اور دوسرے نمازی کوایذا پہنچنی حرام ہے، اور دوسرانمازی نہ بھی ہو تو بدبو سے ملائکہ کو ایذاپہنچتی ہے، حدیث میں ہے ان الملٰئکۃ تتأذی ممایتاذی منہ بنواٰدم؎۔ ملائکہ کو ہر اس شے سے اذیت ہوتی ہے جس سے بنی آدم کو اذیّت پہنچتی ہے

( فتاوی رضویہ شریف ج ۷ ص ۳۸۲ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
دوسری جگہ فرماتے ہیں: اور ایسی حالت میں ان کو قرآن مجید پڑھنا منع ہے۔ حدیث میں ہے طیبوا افواھکم فانہا طرق القراٰن ؎ اپنے منہ صاف رکھو کیونکہ یہ قرآن کا راستہ ہیں۔

(ج ۲۰ ص ۳۳۵ رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
اور صَدرُ الشَّریعہ،بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مُفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مسجِد میں کچّا لہسن اور کچّی پیاز کھانا یا کھا کر جانا جائز نہیں ، جب تک کہ بُو باقی ہو اور یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے ، جس میں بُو ہو ،جیسے گِندَنا( یہ لہسن سے ملتی جُلتی ترکاری ہے) مُولی ، کچا گوشْتْ اورمِٹّی کا تیل ،وہ دِیا سَلائی جس کے رگڑنے میں بُو اُڑتی ہو، رِیاح خارِج کرنا وغیرہ وغیرہ۔ جس کو گندہ دَہنی کا عارِضہ ( یعنی منہ سے بد بو آنے کی بیماری)یا کوئی بد بودار زَخم ہو یا کوئی بد بودار دوا لگائی ہو تو، جب تک بُو مُنقَطِع( یعنی ختم) نہ ہو، اُس کو مسجِد میں آنے کی مُمانَعت ہے

(بہارِ شریعت ج۱ص ۶۴۸)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد اشفاق عطاری

۲۸ جون ۲۰۲۱ عیسوی بروز پیر

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only