جس بچے کا عقیقہ نہ ہوا ہو تو وہ اپنے والدین کی شفارش نہیں کریگا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسٸلہ ذیل میں کے اگر کسی نابالغ بچہ جس کا عقیقہ نہ ہوا ہو اور وہ انتقال کر گیا تو کیا وہ اپنے والدین کی سفارش نہیں کرے گا ؟ تشفی بخش جواب عنایت فرماٸیں۔ نوازش ہوگی۔ المستفتی عبدالرشید قادری بنارس ممبر آف 2️⃣گروپ یارسول اللہﷺ

       جواب

نابالغ بچہ پیدائش کے سات دن پورے ہونے سے پہلے مرگیا تو والدین اسکی شفاعت کے مستحق ہیں کہ شرع نے عقیقہ کی یہی میعاد مقرر کی ہے اور سات دن بعد مرا اور استطاعت کے باوجود بلاوجہ عقیقہ نہیں کیا تو اب اسکی شفاعت کے مستحق نہ ہونگے چنانچہ مجدد اعظم سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں *جو بچہ سات دن سے پہلے مرگیا عقیقہ نہ کرنے سے جو الزام آتا کہ وہ شفیع ہوگا ،یہاں نہ ہوگا کہ شرع نے جو اس کا وقت مقرر فرمایا اس سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا اور سات دن بعد مرا اور استطاعت تھی تو اسکی شفاعت کا استحقاق نہیں

(فتاویٰ رضویہ ج۲۰ص۵۹۲دعوت اسلامی) ایسا ہی ص۵۹۳پر بھی ہے
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی کشنگنج

کشنگنج بہار الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے