کسی مسلمان کو شیطان یا خبیث کہنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا قرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی مسلمان کو خبیث شیطان کہنا کیسا ہے؟۔ المستفتی محمد عمران رضا

       جواب

کسی مسلمان کو بے وجہ شیطان یا خبیث کہنا صحیح نہیں ہے جیسا کہ آج کل یہ لفظ اکثر لوگ بطور گالی استعمال کرتے ہیں شرارتی بچے کو بھی شیطان بول دیتے ہیں اس کی صورتیں بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ رحمہ

فتاوٰی رضویہ جلد 13صَفْحَہ656
پر فرماتے ہیں کہ گمراہ بددین کو شیطان کہا جا سکتا ہے اور اسے بھی جو لوگوں میں فتنہ پردازی کرے اِدھر کی اُدھر لگا کر فساد ڈلوائے جو کسی کو گناہ کی ترغیب دے کر لے جائے وہ اُس کاشیطان ہے اور مومن صالح کوشیطان کہنا شیطان کا کام ہے مزید

صَفْحَہ 652
پر تحریر کرتے ہیں مسلمانوں کو بِلا وجہ شرعی مردود یا ابلیس کہنا سخت حرام ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے وَال وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠

(پ۲۲ الاحزاب ۵۸)
ترجَمۂ کنزالایمان اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بُہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں جس نے کسی مسلمان کو( ناحق) ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اُس نے اللہ (عزَّوَجَلَّ)کو ایذا دی

(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج ۲ص۳۸۶حدیث۳۶۰۷)
مزکورہ بالا احادیث طیبہ سے معلوم ہوا کہ بے وجہ کسی کو بھی شیطان یا خبیث نہیں کہسکتے ورنہ گنہگار ہونگے فقط والسلام واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے