نماز میں چھینک کا جواب دے دیا تو نماز کا کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید کو نماز میں چھینک آئی اور حمد کی نیت سے الحمدللہ پڑھ لیا تو کیا اس حالت میں نماز ہوتی کہ نہیں برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں شکریہ المستفتی محمد عرفان رضا ازہری کانپوری

       جواب

صورت مسئولہ میں نماز ہوجاتی ہے لیکن بہتر ہے کہ سکوت کرے ، جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے ولو قال العاطس لا تفسد صلاتہ وینبغی أن یقول فی نفسہ والأحسن ھو السکوت کذا فی الخلاصۃ "اھ

(فتاویٰ ہندیہ جلد اول صفحہ ۱۰۹ کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، فیما یفسدھا / دارالکتب العلمية بیروت )
بہار شریعت میں ہے: نما زمیں چھینک آئے، تو سکوت کرے اور الحمدﷲ کہہ لیا تو بھی نماز میں حرج نہیں اور اگر اس وقت حمد نہ کی تو فارغ ہو کر کہے

(حصہ سوم مسئلہ ۱۳نماز فاسد کرنے والی چیزوں کا بیان )
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

۱۸ محرم الحرام ۱٤٤٣ ھجری بروز شنبہ

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0