نماز میں چھینک کا جواب دے دیا تو نماز کا کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید کو نماز میں چھینک آئی اور حمد کی نیت سے الحمدللہ پڑھ لیا تو کیا اس حالت میں نماز ہوتی کہ نہیں برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں شکریہ المستفتی محمد عرفان رضا ازہری کانپوری

       جواب

صورت مسئولہ میں نماز ہوجاتی ہے لیکن بہتر ہے کہ سکوت کرے ، جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے ولو قال العاطس لا تفسد صلاتہ وینبغی أن یقول فی نفسہ والأحسن ھو السکوت کذا فی الخلاصۃ "اھ

(فتاویٰ ہندیہ جلد اول صفحہ ۱۰۹ کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، فیما یفسدھا / دارالکتب العلمية بیروت )
بہار شریعت میں ہے: نما زمیں چھینک آئے، تو سکوت کرے اور الحمدﷲ کہہ لیا تو بھی نماز میں حرج نہیں اور اگر اس وقت حمد نہ کی تو فارغ ہو کر کہے

(حصہ سوم مسئلہ ۱۳نماز فاسد کرنے والی چیزوں کا بیان )
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

۱۸ محرم الحرام ۱٤٤٣ ھجری بروز شنبہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے