قبرستان میں منّت ماننا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ قبرستان میں لوگ منت مانتے ہیں میرا فلاں کام ہوجائے تو میں قبرستان میں مرغا دونگا تو کام ہوجانے پر قبرستان میں مرغا ذبح کر کے پکاتے ہیں اور فاتحہ کرتے ہیں اور سب لوگ کھاتے ہیں تو درست یا نہیں قرآن و احادیث کی روشنی میں حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی المستفی فقیر قادری ناچیز محمد مسعود عالم رحمانی مقام بھیلوا خطیب وامام مدینہ مسجد کھجوریا ضلع بانکا بہار

       جواب

منت کی دو قسمیں ہیں ایک شرعی اور ایک عرفی ہے منت شرعی۔ منت شرعی یہ ہے کہ اللہ کے لئے کوئی چیز اپنے ذمہ لازم کر لینا۔ اس کی کچھ شرائط ہوتی ہیں اگر وہ پائی جائیں تو منّت کو پورا کرنا واجب ہوتا ہے اور پورانہ کرنے سے آدمی گناہگار ہوتا ہے ۔ اس گناہ کی نحوست سے اگر کوئی مصیبت آپڑے تو کچھ بعید نہیں منت عرفی دوسری منت عرفی وہ یہ کہ لوگ نذر مانتے ہیں اگر فلاں کام ہوجائے تو فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھائیں گے یا حاضری دیں گے یہ نذرِ عُرفی ہے اسے پورا کرنا واجب نہیں بہار شریعت جلد دوم حصہ نہم صفحہ ٣١٧ میں ہے مسجد میں چراغ جلانے یا طاق بھرنے یا فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھانے یا گیارھویں کی نیاز دِلانے یا غوث اعظم رضی اللہ تعا لٰی عنہ کا توشہ یا شاہ عبدالحق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا توشہ کرنے یا حضرت جلال بخاری کا کونڈا کرنے یا محرم کی نیاز یا شربت یا سبیل لگانے یا میلاد شریف کرنے کی منّت مانی تویہ شرعی منّت نہیں مگر یہ کام منع نہیں ہیں کرے تو اچھا ہے۔ ہاں البتہ اس کا خیا ل رہے کہ کوئی بات خلاف شرع اس کے ساتھ نہ ملائے مثلاً طاق بھرنے میں رت جگا ہوتا ہے جس میں کنبہ اور رشتہ کی عورتیں اکٹھا ہو کر گاتی بجاتی ہیں کہ یہ حرام ہے یا چادر چڑھانے کے لیے بعض لوگ تاشے باجے کے ساتھ جاتے ہیں یہ ناجائز ہے لھذا صورت مسئولہ میں لوگوں کا قبرستان میں منت ماننا صحیح نہیں ہے ہاں جس نے منت مانا ہے وہ قبرستان پر نا جاکر گھر پر ہی مرغا ذبح کر کے لوگوں کو کھلا پلا دے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد عمران قادری تنویری غفرلہ

١٩/١/١٤٤٣ھجری بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے