اللہ عزوجل کو رام یا پھر بھگوان کہنا کیسا ہے؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ اللہ عزوجل کو ”رام“ یا پھر بھگوان کہنا کیسا ہے؟ سائل محمد ارمان شیوپوری مہراجگنج

       جواب

رام اور بھگوان کے معنی جانتے ہوئے جو مسلمان اللہ عز و جل کو ”رام یا بھگوان “کہے ، وہ کافر و مرتد ہے ، اس کے تمام نیک اعمال برباد ہوگئے ، اس پر فرض ہے کہ اس کفر سے توبہ کرے ، پھر سے کلمہ پڑھے ، اگر شادی شدہ تھا ، تو پھر سے نکاح کرے۔رام کے معنی ہیں رما ہوا یعنی کسی میں گھسا ہوا ۔ یہ معنی اللہ عزوجل کے لیے عیب ہیں اور اس بات کو مستلزم ہیں کہ وہ خدا نہ ہو ،اس لیے رام کا اطلاق اللہ عزوجل پر کفر ہے ، خدا کو رام کہنے کاتفصیلی حکم بیان کرتے ہوئے مفتی محمد شریف الحق امجدی صاحب رحمۃاللہ تعالی علیہ فتاوی شارح بخاری میں لکھتےہیں:”رام کے جو حقیقی معنی ہیں ، ان پر مطلع ہوتے ہوئے جو شخص اللہ عزوجل کو ” بھگوان یا رام “کہے ، وہ بلاشبہہ کافر ، مرتد ہے،اس کے تمام اعمال حسنہ اکارت ہوگئے،اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی ۔اس پر فرض ہے کہ اس سے توبہ کرے ، پھر سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو اور اپنی بیوی رکھنا چاہتا ہو ، تو پھر سے تجدیدِ نکاح کرے ۔سنسکرت میں بھگ عورت کی شرم گاہ کو کہتے ہیں اور وان معنی ”والا “۔رام کے معنی رما ہوا یعنی کسی میں گھسا ہواہے ۔ یہ دونوں معنی اللہ عزوجل کے لیےعیب ہیں اور اس کو مستلزم ہیں کہ وہ خدا نہ ہواس لیےدونوں الفاظ کا اطلاق اللہ عزوجل پر کفر ہے ۔رہ گئے وہ لوگ جو اس کے حقیقی معنی نہیں جانتے ، وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہندؤوں میں اللہ عزوجل کو بھگوان یا رام کہا جاتا ہے ۔ اسلئےانہوں نے اللہ عزوجل کو ”بھگوان یا رام “کہا ، تو ان کا حکم اتنا سخت نہیں ، پھر بھی ان پر توبہ وتجدید ایمان و نکاح لازم ہے (فتاویٰ شارح بخاری جلد 1 کتاب العقائد صفحہ 171 172 مطبوعہ برکات المدینہ ) مزید معلومات کیلئے فتاویٰ مصطفویہ ص نمبر 600 واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ الفقیر محمد ثمیررضاعلیمی عفی عنہ

مقام بسنت تھانہ اورائی ضلع مظفر پور بہار الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے