بغیر مرضی لڑکے کی شادی کرانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ زید کو لڑکی پسند نہیں ہے اور اس کے ماں باپ زبردستی اس لڑکی سے شادی کرا رہے ہیں کیا اس صورت میں زید کو شادی کر لینی چاہیے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں المستفی: محمد علی کانپور

       جواب

زید بالغ عاقل جوان ہے وہ اپنی ذات کا شرعی طور پر خود مالک و مختار ہے اس کے والدین اس لڑکی سے شادی کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے جو زید کو پسند ہی نہیں ہے لیکن زید جس لڑکی سے چاہے اپنی پسند سے کفو میں نکاح کر سکتا ہے اگرچہ والدین کی ناراضگی نقصان دے مگر نکاح کے ہونے میں کوئی حرج نہیں جس طرح لڑکیاں اپنی ذات کا زیادہ حقدار ہیں اپنے ولی کے مقابلے میں اسی طرح لڑکے بھی اپنی ذات کا حقدار ہیں
حدیث شریف میں ہے قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الایم احق بنفسھا من ولیھا۱؎ رواہ الائمۃ مالک واحمد ومسلم وابوداؤد والترمذی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ بالغ لڑکی اپنے ولی کے مقابلہ میں اپنے بارے میں فیصلہ کی زیادہ حقدار ہے، فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم صفحہ ٥٣٠ لھذا جب زید کو لڑکی پسند نہیں ہے تو اس کے والدین کو زبردستی نہیں کرنا چاہیے ہو سکتا ہے زید اور اس کی بیوی میں آۓ دن جھگڑا لڑائی ہو تو گھر کا سکون غارت ہو نے کا قوی اندیشہ ہے اور زید کو اپنے والدین کا کہنا مان لینا چاہیے اور وہ جہاں شادی کرنا چاہیں کر لے اس لیے کہ والدین اپنی اولاد کے لیے برا نہیں چاہتے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد عمران قادری تنویری غفرلہ

٦ صفر المظفر ١٤٤٣ ھجری بروز سہ شنبہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے