9.01.2021

کیا انبیاء کرام سے بھی سوال قبر ہوتے ہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علماء کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کیا انبیاء کرام سے بھی سوال قبر ہوتےہیں تسلی بخش جواب دیں مع حوالہ عین نوازش ہوگی (سائل محمد رضوان امولی)

       جواب

انبیاء علیھم السلام سوالات قبر سے مستثنیٰ ہیں اور صحیح قول یہ ہے کہ انبیاء علیھم السلام سے سوال نہیں ہوتا جیسا کہ فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے : اصح قول یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہ السلام سے سوال نہیں ہوتا در مختار میں ہے والأصح ان الأنبیاء لا یسألون "اھ۔ ردالمحتار میں ہے "واشار الشارح الی ان یزاد الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام لا نھم اولیٰ من الصدیقین "اھ

(ج ۲ ص۱۹۲ مطلب ثمانیة لا یسألون فی قبورھم) ( فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد اول صفحہ ۳٤١ کتاب الجنائز)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

۲ محرم الحرام ۳٤٤١؁ ھجری

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only