9.14.2021

ماں زندہ ہیں تو بیٹے کا حج کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ماں زندہ ہیں تو بیٹے کا حج کرنا کیسا کیا بیٹے کا حج ہو گا یا نہیں برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی المستفتی محمد سلطان اشرفی نیپال

       جواب

بیٹا اگر صاحب مال ہے جس کی وجہ سے اس پر حج فرض ہے تو اسی پر حج کرنا فرض ہے خود حج کو نہ جاکر صرف ماں کو بھیجے گا تو گنہگار ہوگا۔ ہاں اگر بیٹے کے پاس اتنا زیادہ مال ہے کہ ماں کو بھی ساتھ لے جا سکتا ہے تو بیٹے کو چاہئے کہ اپنے والدہ کو بھی ساتھ حج پر لے جائے اور اگر اتنا مال نہیں ہے کہ والدہ کو ساتھ لے کر جا سکے تو تنہا ہی چلا جائے لیکن ماں کی اجازت ضروری ہے۔ ورنہ والدہ کی دل آزاری ہوگی لیکن اگر بغیر اذن کے چلا گیا تو بھی حج ادا ہو جائے گا۔ اس لئے کہ جس شخص کے پاس اتنا مال ہے کہ اس پر حج کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ تو اسی پر حج کرنا فرض ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ حج و عمرہ کو ﷲ عزوجل کے لیے پورا کرو

یہاں پر حوالہ اور کتاب کا صفحہ نمبر وغیرہ لکھیں
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اشفاق عطاری


ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only