وہابی کا پڑھایا ہوا نکاح جائز ہے یا نہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کی زید کی شادی ہندہ سے ہوی یہ دونوں سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہیں مگر نکاح وہابی نے پڑھا یا تو کیا حکم ہے نکاح ہوا یا نہیں؟ جواب عنایت فرمائیں عین کرم ہوگا فقط والسلام (سائل محمد کمال اختر رضا قادری)

       جواب

صورت مسئولہ میں نکاح منعقد ہوگیا کیوں کہ نکاح پڑھانے والا صرف وکیل ہوتا ہے اور وکالت کے لیے اسلام شرط نہیں، لیکن وہابی دیوبندی سے نکاح پڑھوانا جائز، نہیں کہ اس میں اس کی تعظیم ہے
جیسا کہ فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے وہابی کا پڑھایا ہوا نکاح ہوجاتا ہے کیونکہ وہ صرف وکیل ہوتا ہے اور وکالت کے لئے اسلام شرط نہیں فتاوی رضویہ جلد پنجم 117 میں ہندیہ کے حوالہ سے ہے تجوز وکالة المرتد بان وکل مسلم مرتدا و کذا لوکان مسلما وقت التوکیل ثم ارتد فھو علی وکالتہ الا ان یلحق بدار الحرب فتبطل وکالتہ کذا فی البدائع مگر اس سے نکاح پڑھوانا جائز نہیں کہ اس میں وہابی کی تعظیم ہے اور اس کی تعظیم ناجائز وحرام ہے "اھ ( فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 387 کتاب النکاح ) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. السلامُ وعلیکم ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
    اس دور میں سب سے زیادہ مجبور کون ہے

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ