حضرت بلال کی اذان نیز بوڑھی عورت کا واقعہ

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسٔلہ میں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آذان نہیں دی تو اس دن سورج نہیں نکلا۔ اور ایک بوڑھی عورت حضور ﷺ پر روزانہ کوڑا ڈالا کرتی تھی اور جب وہ بیمار ہوئی تو نبی اکرم ﷺ اس کی عیادت کے لئیے تشریف لے گئے کیا یہ دونوں روایات صحیح ہیں مدلل دلائل کی روشنی میں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی المستفی محمد ناظر القادری

       جواب

یہ دونوں ہی روایتیں منگڑھت اور جھوٹی ہیں اور یہ روایتیں کسی بھی معتبر کتب میں نہیں ہے اگر یہ واقعہ کوئی بیان کرتا ہے تو اس سے کسی معتبر کتاب سے حوالہ مانگا جائے
جیسا کہ فقیہ اعظم ہند نائب حضور مفتی اعظم ہند شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ آپ نے جو واقعہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے اس کے قریب قریب بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع منگڑھت اور بالکل جھوٹ ہے (فتاویٰ شارح بخاری جلد02 صفحہ 38 مطبوعہ دائرۃ البرکات گھوسی ضلع مؤ) نیز دوسری روایت کے متعلق
حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی عليه الرحمه تحریر فرماتے ہیں کوڑا کرکٹ ڈالنے والی روایت اس وقت یاد نہیں ہے (فتاویٰ شارح بخاری کتاب العقائد جلد 01 صفحہ نمبر 415) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے