کیا لگاتار تین جمعہ چھوڑنے والا کافر ہو جاتا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے تین جمعہ لگاتار چھوڑ دیا تو کیا وہ کافر ہو جائے گا برائے کرم جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی المستفی محمد سلمان رضا بستی

       جواب

تین جمعہ اگر کوئی شخص لگا تار چھوڑ دے تو وہ منافق ہے
جیساکہ حدیث شریف میں ہے جو تین جمعے سُستی کی وجہ سے چھوڑے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مُہر کر دے گا۔‘‘ اس کو ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابوالجعد ضمری سے اور امام مالک نے صفوان بن سلیم سے اور امام احمد نے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کیا ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے اور حاکم نے کہا صحیح برشرط مسلم ہے اور ابن خزیمہ و حبان کی ایک روایت میں ہے، ’’جو تین جمعے بلاعذر چھوڑے، وہ منافق ہے۔‘‘ اور رزین کی روایت میں ہے، ’’وہ اللہ (عزوجل) سے بے علاقہ ہے۔‘‘ اور طبرانی کی روایت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، ’’وہ منافقین میں لکھ دیا گیا۔‘‘ اور امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے، وہ منافق لکھ دیا گیا اس کتاب میں جو نہ محو ہو نہ بدلی جائے، اور ایک روایت میں ہے، ’’جو تین جمعے پے درپے چھوڑ ے اس نے اسلام کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ((بحوالہ بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ ۷۶۱)) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مشاہدرضا قادری رضوی

مقام شہید اعظم دولھاپور پہاڑ انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. السلام علیکم
    مولانا اسرار احمد صاحب (کالا ڈھونگی) سے رابطہ کرنا ہے انکا نمبر چاہئے مہربانی ہوگی

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ