کیا مسافر جمعہ کی نماز پڑھا سکتا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مسافر جمعہ کی نماز کی امامت کرسکتا ہیں المستفی محمد کامران مرزا بنگلور

       جواب

مسافر جمعہ کی نماز کی امامت کر سکتا ہے اگرچہ مسافر پر جمعہ واجب نہیں اگر اس نے جمعہ کو لازم کر لیا تو اب اس پر واجب ہو گیا اور جب جمعہ اس پر واجب ہوگیا تو وہ اس کی امامت بھی کرسکتا ہے
جیساکہ فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں رد المحتار جلد ۳ صفحہ نمبر ۳۴ کے حوالے سے ان المسافر لما التزام الجمعۃ صارت واجبۃ علیہ ولذا صحت امامتہ فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد ۱ صفحہ نمبر ۳۱۹ مطبوعہ فقیہ ملت اکیڈمی اوجھا گنج بستی
اور فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے اور مسافر نماز فجر ؛ مغرب؛ جمعہ بلکہ ہر نماز میں مقیم کی امامت کر سکتا ہے فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ نمبر 225 مطبوعہ فقیہ ملت دہلی
اور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں جمعہ کی امامت ہر مرد کر سکتا ہے جو اور نمازوں میں امام ہو سکتا ہو اگرچہ اس پر جمعہ فرض نہ ہو جیسے مریض مسافر غلام یعنی جبکہ سلطان اسلام یا اس کا نائب یا جس کو اس نے اجازت دی؛ بیمار ہو یا مسافر تو یہ سب نماز جمعہ پڑھا سکتے ہیں یا انہوں نے کسی مریض یا مسافر یا غلام یا کسی لائق امامت کو اجازت دی ہو یا بضرورت عام لوگوں نے کسی ایسے کو امام مقرر کیا ہو جو امامت کر سکتا ہو یہ نہیں کہ بطور خود جس کا جی چاہے جمعہ پڑھا وے کہ یوں جمعہ نہ ہوگا بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ نمبر ۷۷۲ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ
اور فتاوی فقیہ ملت میں درمختار مع شامی جلد دوم صفحہ نمبر ۱۵۵ کے حوالے سے ہے یصح للامامۃ فیھا ( الجمعۃ)من صلح لغیرھا فجازت لمسافر و عبد و مریض

ج ۱ ص ۲۲۵ مکتبہ فقیہ ملت دہلی
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

ابو عبد اللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے