ناپاکی کی حالت میں نکاح کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ ذیل میں کہ لڑکا اگر ناپاک تھا اور ناپاکی کی حالت میں نکاح کیا تو نکاح ہوگا کہ نہیں جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی المستفی محمد صدام حسین نقشبندی مقام موتی لچھمی صاحب گنج جھاڑکھنڈ

       جواب

صورت مسئولہ میں نکاح منعقد ہوجائے گا کیونکہ نکاح کہتے ہیں ' ایجاب و قبول کرنے کو اور ایجاب و قبول کرنے کے لئے پاک ہونا یہ شرط نہیں لہٰذا نکاح کے وقت اگر عورت حالت حیض میں ہو یا مرد جنابت سے ہو یا گواہوں میں سے کوئی ناپاک ہو تو ان تمام صورتوں میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد ہوجائےگا لیکن یہ بات یاد رہے کہ جنابت کی حالت میں مسجد میں داخل ہونا یہ جائز نہیں لہٰذا مسجد میں داخل نہ ہو اگر مسجد میں جائے گا تو گنہگار ہوگا اور جنبی شخص کو چاہیے کہ وہ نکاح کے بعد فوراً غسل کرلیں اور غسل کرنے میں اتنا تاخیر نہ کرے کہ نماز قضا ہوجائے یہ گناہ ہے احادیث میں اس پر وعیدیں آئی ہے ویسے بھی بلا عذر زیادہ دیر ناپاک نہیں رہنا چاہئے اس لئے جتنا جلد ہوسکے ناپاکی کو دور کر کے پاکی حاصل کرلے
حدیث شریف میں ہے الطہارت نصف الایمان ترجمہ پاکی ایمان کا آدھا حصہ ہے مشکواۃ شریف باب الطہارت ص ۳۸۰ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ الفقیر محمد ثمیررضاعلیمی عفی عنہ

مقام بسنت تھانہ اورائی ضلع مظفر پور بہار الہند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے