بچوں کا مدارس میں بلند آواز سے قرآن پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  قرآن کی تلاوت مجع میں بلند آواز سے کرنا ممنوع و ناجائز ھے جیسا کہ بہارِ شریعت اور دیگر کتب فقہ میں تحریر ھے۔ لہذا مدارس میں جو بچے سبق حفظ کرنے کے لئے بلند آواز سے پڑھتے ھیں انکے لئے کیا حکم ھے نیز جب قرآن بلند آواز سے پڑھا جاۓ اور سننے کے لئے حاضر ھو خاموشی اور خوب کان لگا کر سننے کا حکم ھے۔ تو جو مدرسین حضرات 2۔۔2۔۔۔3۔۔3۔۔۔ بچوں کا سبق اکٹھے ھی سنتے ھیں انکے لئے کیا حکمِ شرع ھو گا۔؟؟؟ المستفی محمد زیب علی. ڈیرہ اسماعیل خان

       جواب

مدارس اسلامیہ میں بلند آواز سے بچوں کا قرآن پاک حفظ (یاد) کرنا یا ناظرہ پڑھنا تعلیم قرآن ہے نہ کہ تلاوت قرآن پاک ، لہذا تلاوت قرآن پاک کا سماعت کرنا فرض ہے نہ کہ تعلیم قرآن پاک کا، اور استاذ کا سننا بغرض اصلاح ہے نہیں کہ بغرض تلاوت قرآن پاک
جاء الحق میں اسی طرح کے سوال کا جواب ہے فرماتے ہیں وہاں تعلیم قرآن ہے تلاوت قرآن نہیں ، تلاوت کا سننا فرض ہے۔ ، نہ کہ تعلیم قرآن پاک ، اس لیے رب العزت نے اذاقرئ فرمایا ، تعلم نہیں اذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ (سورہ نحل آیت ٩٨) جب قرآن پڑھو تو اعوذ باللہ پڑھ لیا کرو۔ تلاوت قرآن پر اعوذ پڑھنا چاہیے ، جب شاگرد استاد کو قرآن سنائے تو اعوذ نہ پڑھے ، یہ تلاوت قرآن نہیں، قرآن ہے ، (شامی) ایسے ہی قرآن کریم ترتیب کے خلاف چھاپنا منع ہے ، ترتیل و ترتیب چاہیے ،مگر بچوں ی تعلیم کے لیے آخری (٣٠) پارہ الٹا چھاپتے بھی ہیں اور پڑھاتے بھی ہیں ، تعلیم و قرآۃ کے احکام میں فرق ہوتا ہے ،قران نے بھی تلاوت قرآن و تعلیم میں فرق کیا
قال الله تعالیٰ عربی عبارت یتلوا علیھم ایاته یزکیه و یعلمھم الکتاب والحکمۃ اھ (سورہ جمعہ آیت ٢ ) وہ نبی مسلمانوں پر آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں ، اور قرآن و حکمت سکھاتے ہیں ، اگر تلاوت اور تعلیم میں فرق نہیں ہوتا تو یہاں ان دونوں کا ذکر علیحدہ کیوں ہوا (جاء الحق ،ح دوم ص ٣٩٥ ،قادری پبلیشرز لاہور ) مذکورہ دلائل سے بالکل ظاہر و باہر ہے کہ تلاوت قرآن اور تعلیم قرآن میں فرق ہے لہذا تلاوت کے احکام کلی طور پر تعلیم پر نافذ نہ ہوں گے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ احمد رضا غزالی

مقام بہار الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے