انجیکشن کے ذریعے مرد کی منی عورت کے ڈالنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلے کہ بارے میں کہ انجکشن کے ذریعے سے مرد کی منی عورت کے بچے دانی میں ڈال کر حمل ٹھہرانا کیسا ہے۔ مدلل ومفصل جواب عطا فر ما ںٔیں کرم ہوگا المستفی دلنواز احمد فتح پور

       جواب

اپنی عورت کے رحم میں اپنے منی کو انجکشن یا اس کے علاوہ کے ذریعہ ڈالنا اس شرط پر جائز ہے جب کہ مرد خود اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کے رحم یعنی بچہ دانی میں ڈالے اور اگر اپنی منی اپنی بیوی کے رحم میں کسی ڈاکٹر یا نرس کے ذریعہ ڈلوانا ناجائز و حرام ہے دور جدید میں مرد کی منی کو عورت کے رحم میں سائنسی آلات کے ذریعہ ڈالنا عام طریقہ یہ ہے کہ اس آلات کو دوسرا مرد یا دوسری عورت استعمال کرتی ہے اور اس میں عورت کے ستر غلیظ کو کھول کر اندام نہانہ کو دیکھنا اور چھونا پڑتا ہے اور بلا ضرورت شرعیہ کسی عورت کو یہ بھی جائز نہیں کہ وہ کسی عورت کے شرمگاہ کو دیکھے یا چھوۓ
حدیث شریف میں ہے لعن اللہ الناظر والمنظر الیہ۔اھ یعنی جو شرمگاہ کو دیکھے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور جو اپنے شرمگاہ کو دکھاۓ اس پر بھی اللہ کی لعنت مشکوۃ المصابیح کتاب النکاح صفحہ ٢٧٠
اور مسلم شریف کتاب الطھارۃ باب تحریم النظر الی العورات جلد اول اول صفحہ ١٥٤ میں ہے عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن ابیہ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال لا ینظر الرجل الی عورۃ الرجل و لا المرأۃ الی عورۃ المرأۃ ۔اھ یعنی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مرد کسی مرد کی اور کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ کو نہ دیکھے فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ ٤٨٥/٤٨٦ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد عمران نظامی قادری تنویری عفی عنہ

٢ ربیع الاول ١٤٤٣ ہجری مطابق ٩ اکتوبر ٢٠٢١۔ عیسوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے