11.15.2021

بانجھ بکری کا عقیقہ کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے بارے میں کیا بانجھ بکری کا عقیقہ کر سکتےہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں جواب جلد از جلد ارسال کریں بہت ضروری ہے المستفی عبدالخالق رضا شولاپور مہاراشٹرا

       جواب

بانجھ بکری کا عقیقہ بالکل جائز و درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ جب بانجھ بکری کی قربانی ہو سکتی ہے تو پھر عقیقہ بھی ہو جائے گا
حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ بانجھ بکری کی قربانی جائز ہے کہ وہ خصی کے مثل ہے اسی لیئے فقہاۓ کرام نے اسے قربانی کے جانوروں میں عیوب شمار نہیں فرمایا ہے (فتاوی فیض الرسول جلد 02 صفحہ 461 / قربانی کا بیان) الحاصل : جب بانجھ بکری کی قربانی ہو سکتی ہے تو پھر عقیقہ کیوں نہیں لہذا بانجھ بکری کا عقیقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کر سکتے ہیں جب کہ اور کوئی وجہ مانع نہ ہو واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

مقام خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only