غیر مسلم سے پھونک چھاڑ کروانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  بعدہ عرض یکہ کوٸی سنی صحیح العقیدہ کسی ہندو کے گھر پر تیل پانی دم کروانے جاٸے اس کے اوپر شریعت کا کیا حکم ہے ؟ کتاب و سنت سے جواب عنایت فرماٸیں۔ آپکی مہربانی ہوگی۔ اللہ تعالی آپکے علم میں برکتیں عطا فرمائے المستفی محمد شاھین اختر ممبر آف 1️⃣گروپ یارسول اللہﷺ

       جواب

ہندو کے گھر پر تیل یا پانی دم کروانے جانا حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں کفر بھی ہے
جیسا کہ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے کہ اوگڑھ شیاطین کی پرستش کرتے اور اپنے کرتب اور دیگر امور میں ان سے مدد طلب کرتے ہیں اوران کے حکم پر چلتے ہیں یونہی وہ اپنے جھاڑ پھونک اور منتر میں بت اور دیوی، دیوتاؤں سے استعانت کرتے ہیں جوکھلا ہواشرک ہے ۔ یہ باتیں عوام بھی جانتے ہیں لہٰذا جان بوجھ کر اس کا علم تھا پھر بھی اس نے اوگڑھ سے وہ کرتب کراۓ جو تو اس پر کفر لازم ہے اور اگر نہیں جانتا تھا تب بھی گنہگار ضرور ہے۔ اس طرح کے ایک جواب میں حضرت شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں غیر مذہب والوں سے جھاڑ پھونک کرانا حرام اور منجرالی الکفر ہے۔ ہندو جھاڑ پھونک کرنے والے منتروں میں بتوں دیوی دیوتاؤں سے استعانت کرتے ہیں پھر بھی ان سے جھاڑ پھونک کراتا ہے تو وہ شخص قطعی طور پر کافر ہے اور اگر یہ نہیں جانتا تھا تو بھی گناہ گار ضرور ہے ص۸،ستمبر ۲۰۰۰،ماہنامہ اشرفیہ) لہذا اگر کوئی شخص بات کو جانتے ہوۓ کہ غیر مسلم اپنے منتر وکرتب میں شیاطین اور دیوتاؤں سے استعانت کرتے ہیں اس سے علاج کرایا تو اس پر لازم ہے کہ وہ تجدید ایمان کرے،شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح اور اگر کسی سے مرید ہے تو تجدید بیعت بھی کرے اور اگر وہ شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ غیر مسلم اپنے کرتبوں اور منتروں اور جھاڑ پھونک میں شیاطین اور اپنے دیوتاؤں سے استعانت کرتے ہیں تو بھی گنہگار ضرور ہوگا اسلئے اس سے اعلانیہ توبہ کرے اور آئندہ بچے

( فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ ٤١٩ کتاب الحظر والاباحۃ)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

۲٦ ربیع الاوّل ۳٤٤١؁ ھجری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے