ہندو مسلم بھائی بھائی کے پوسٹر لگانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع اس مسئلہ میں گنیش وسرجن کے موقع پر شہر کے قلب میں ہندو مسلم بھائی بھائی کے بینر و پوسٹر لگا کر سبیل کا اہتمام اعلیٰ پیمانے پر کرکے عوام میں تشہیر کرنا ازروع شرع کیسا ہے مہربانی فرماکر جواب عنایت فرمادیں جزاک الله فی الدارین المستفی سید حبیب الدین قادری کریم نگر دکن تلنگانہ

       جواب

کفار سے میل ملاپ اور ان سے وطنی اخوت اپنے دینی مفاد جبکہ اپنے دینی امور میں ان کی شرکت نہ ہو ؛ اور دنیاوی معاملات میں کی جا سکتی ہے ان کے مذہبی امور اور ان کے دینی معاملات میں میل جول کی گنجائش بغیر اکراہ شرعی ہرگز نہیں
جیسا کہ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے کافروں سے جان پہچان اور ان سے میل جول صرف دنیاوی معاملات میں کی جا سکتی ہے لیکن مذہبی امور میں ان سے میل جول ہرگز جائز نہیں کہ ہمارا دین الگ ہے ان کا دین الگ ہے نیز فتاویٰ رضویہ جلد نہم صفحہ نمبر ۱۲۳ کے حوالے سے ہے کفار سے امور دنیاوی مثلا تجارت وغیرہا میں موافقت کی جاسکتی ہے جہاں تک مخالفت شرع نہ ہو مگر ان کے امور مذہبی میں موافقت ضرور لعنت الہی اترنے کی باعث ہے فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ نمبر ۳۸۰ مطبوعہ فقیہ ملت اکیڈمی اوجھا گنج بستی لہذا بوقت گنیس وسرجن مسلمین کا ان کی شرکت میں سبیل وغیرہ لگا کر اور ان کے ساتھ مبارکبادی و اظہار اخوت کے لیے بینر و پوسٹر ہرگز جائز نہیں کہ یہ ان کے دینی امور میں ان کی موافقت ہے کیونکہ گنیس وسرجن ان کا مذہبی معاملہ ہے جو لوگ اس کے مرتکب ہوے انہیں چاہیے کہ وہ توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ایسے معاملات سے بچنے کا عزم مصمم کریں معہ امور خیر کریں کہ امور جیر قبول توبہ میں معاون ہیں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابو عبد اللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے