حضور ﷺ کے تشریف آوری سے پہلے اللہ کی عبادت کیسے کی جاتی تھی

Gumbade AalaHazrat

سوال
  حضرت سوال عرض گزارش ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آنے کے بعد اللہ کی عبادت کیسے کی جائے یہ طریقہ ملا لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے بہت سارے انبیاء کرام تشریف لائے تو وہ سب کیسے اللہ کی عبادت کرتے تھے۔۔ جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں المستفی محمد منظر حسین اشرفی بھاگلپور بہار

       جواب

جس طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز قیام و قعود و سجود و رکوع کے ساتھ ہے اسی طرح دیگر انبیائے کرام کی بھی نمازیں قیام و قعود وغیرہ کے ساتھ تھیں
کما قال اللہ تعالی وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرا گھر طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے خوب پاک صاف رکھو
وقال فی مقام آخر واِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْــٴًـا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْقَآىٕمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا صحیح مقام بتا دیا اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کیلئے خوب صاف ستھرا رکھو لہذا مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ امم سابقہ میں بھی نمازیں قیام و رکوع و سجود کے ساتھ تھیں جس پر حدیث معراج بھی دال ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا تو میں نے نبیوں کو دیکھا کوئی قیام میں تھا کوئی رکوع میں اور کوئی سجدے میں نیز ہر امت پر احکام شرع میں اپنے نبی کی اتباع و پیروی فرض ہے ؛ لہذا امم سابقہ اپنے انبیائے کرام کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرتے اور انہیں کے مطابق اپنی عبادات انجام دیتے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے