یہ کہنا کہ اگر اللہ تعالیٰ بھی فرمادے پھر بھی میں نہیں مانتاہوں کیسا؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے ھذا میں کہ: زید اور بکر کے کھیت کی زمین پر جھگرا ہوا زید کہتاہے کہ یہ حصہ ہمارا ہے بکرنے لوگوں کی موجودیگی میں کہہ دیا (نعوذبااللہ) اگر اللہ تعالی بھی فرمادے پھر بھی میں نہیں مانتاہوں۔تواس شخص کی بارے شرع کیاکہتاہے آیااس کی ایمان اور نکاح کو نقصان پہنچا ہے کہ نہیں ۔ قرآن و احادیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی المستفی عبدالقیوم رضوی ۔پاکستان ۔صوبہ پختونخواہ۔ضلع کوہاٹ

       جواب

اگر اللہ تعالی بھی فرمادے پھر بھی میں نہیں مانتاہوں یہ جملہ کہہ کر بکر کافر و مرتد ہوگیا اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی اس کے تمام اعمال حسنہ اکارت ہوگئے اسی طرح کے سوال کے جواب میں
حضرت العلام مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تبارک و تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ بکر کا باپ زید کافر و مرتد ہو گیا اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی اس کے تمام اعمال حسنہ اکارت ہو گئے اس نے دو کفرا بکا بلکہ تین خدا اتر کر آئے جب بھی نہیں بننے دونگا اس میں دو کفر ہے اور میں خدا سے بڑھ کر ہوں تیسرا کفر (فتاوی شارح بخاری،ج:۱،ص:۱۶۵،عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی،ناشر:دائرۃ البرکات،کریم الدین پور،گھوسی ضلع مئو) بکر پر ضروری ہےکہ وہ اپنے اس قول سے رجوع کرے اور توبہ و استغفار کرے اور تجدید ایمان و تجدید نکاح اور بیعت کرے
درر،غرر وغیرہ میں ہے: وما فیہ خلاف یؤمر بالتوبۃ و الاستغفار و تجدید النکاح (در مختار،ج:۶،ص:۳۹۰،کتاب الجھاد،باب المرتد،مکتبہ زکریا) اگر اس طرح نہیں کرتا ہے تو مسلمانوں پر ضرور ہے کہ اس کا مکمل بائیکاٹ کردیں اور مر جائے تو اس کے غسل و کفن دفن جنازے میں شریک نہ ہوں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ جلال الدین احمد امجدی رضوی نعیمی ارشدی خادم جامعہ گلشن فاطمہ للبنات پیپل گاؤں و بانی و مہتمم تاج الشریعہ لائبریری پیپل گاؤں نائیگاؤں ضلع ناندیڑ مہاراشٹر الھند

(بتاریخ ۲۷/ربیع الاول بروز بدھ مطابق ۳/نومبر ۲۰۲۱/ عیسوی)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے