کیا ہندوؤں کے میلے میں جانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مشائخ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہندوؤں کے میلے میں جانا کیسا ہے, کیا ہندو کے میلے میں جانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ہے کیا قرآن و احادیث کی روشنی میں حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی آپکی المستفی فقیر قادری ناچیز محمد مسعود عالم رحمانی مقام بھیلوا خطیب وامام مدینہ مسجد کھجوریا ضلع بانکا بہارالہند

       جواب

اہل ہنود کے میلوں میں جانا حرام مگر شرکت کرنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا جب تک اسے اچھا نہ جانے
جیسا کہ سیدی سرکار اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ رحمہ فتاویٰ رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں کہ ہنود کے میلے میں جانا حرام ہے مگرنکاح نہیں ٹوٹتا جب تك اسے اچھانہ جانے،اچھا جانے گا تو بیشك کافرہوجائے گا اور نکاح ٹوٹ جائے گا ناچ دیکھنا حرام ہے اگرچہ ناچنے والی مسلمان ہو بلکہ اگرمسلمان ہوتو اورسخت ترحرام ہے دو وجہ سے،اول اجنبیہ عورت مسلمان کی بے پردگی کافرہ کی بے پردگی سے ہزاردرجے سخت ترہے۔دوم مسلمان عورت کی بے حیائی کافرہ کی بے حیائی سے اورتماشا دیکھنے کے لئے خریدوفروخت کاحیلہ محض جھوٹا ہے خریدوفروخت بازار میں نہیں ہوسکتی اور تعزیہ دیکھنابھی جائزنہیں اور امام جبکہ فاسق معلن ہو اس کے پیچھے نمازمکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب مقتدیوں کا اس میں حرج نہ سمجھنا حکم شرعی کونہ بدل دے گا۔آریہ کالکچر سننے جانا اور بھی سخت ترحرام ہے وہ کفربکتے ہیں اور یہ کفرسننے جاتے ہیں ایسے جلسے میں شریك ہونے کو
قرآن عظیم نے فرمایاہے اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُہُمْ جب تو تم بھی انہیں جیسے ہو،اور فرمایا (القرآن الکریم ۴ /۱۴۰)
اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے اِنَّ اللہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیۡنَ وَالْکٰفِرِیۡنَ فِیۡ جَہنَّمَ جَمِیۡعَۨا ترجمہ بیشك اﷲ تعالٰی اُن کافروں اور ان نام کے مسلمانوں ان کے جلسے میں شریك ہونے والوں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا (القرآن الکریم ۴ /۱۴۰) (بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ نمبر 142/ 143 مطبوعہ المدینہ کراچی) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے