حقیر کیسے کہتے ہیں اور حقیر لکھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حقیر کسے کہا جاتاہے اور حقیر لکھنا کیسا جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی المستفی محمد محفوظ رضا بمقام شیرگھاٹی

       جواب

حقیر کا لغوی معنیٰ ہے ادنیٰ ذلیل بے قدر فیروز اللغات اردو جدید صفحہ ۳۰۵) حقیر لکھنا مباح ہے مباح اسے کہتے ہیں جس کا کرنا نہ کرنا یکساں ہوں (بہار شریعت حصہ دوم ملخصا) حقیر لکھنا اس لیے مباح ہے کہ ماضی قریب میں ہمارے بزرگان دین اور اکثر علماء نے خود کو حقیر فقیر لکھا ہے حقیر لکھنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ لکھنے والا ذلیل ہو بے قدر ہو بلکہ اس سے بارگاہ رب العزت میں عاجزی و انکساری مقصود ہوتا ہے اس لیے خود کو حقیر لکھنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

۱۸ جمادی الاول ۱۴۴۳ ھجری

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0