فٹپاٹ پر دکان لگانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فٹ پاٹ پے دکان لگانا کیسا ہے برائے کرم جواب سے نوازیں بہت مہربانی ہو گی المستفی محمد شاکر رضوی جہان آباد ضلع فتح پور الھند

       جواب

راستے میں یعنی کہ فٹ پاتھ پر دکان لگا سکتے ہیں لیکن اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ راستہ چلنے والوں کو تکلیف نہ پہنچے ورنہ پھر لگانا درست نہیں ہے
جیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ جو شخص راستہ پر خریدوفروخت کرتا ہے اگر راستہ کشادہ ہے کہ اس کے بیٹھنے سے راہ گیروں پر تنگی نہیں ہوتی تو حرج نہیں اور اگر گزرنے والوں کو اس کی وجہ سے تکلیف ہوجائے تو اُس سے سودا خریدنا نہ چاہیے کہ گناہ پر مدد دینا ہے کیونکہ جب کوئی خریدے گا نہیں تو وہ بیٹھے گا کیوں حوالہ الفتاوی الھندیۃ کتاب البیوع،الباب العشرون فی البیاعات المکروھۃ إلخ ج ۳ ص ۲۱۰) (بحوالہ بہار شریعت حصہ 11 صفحہ نمبر 731 مطبوعہ المدینہ کراچی پاکستان) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے