احتلام ہوا بغیر غسل کئےبھول کر نماز پڑھی تو کیا حکم ہے؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیافرماتے ہیں علماۓ کرام کہ زید نماز فجر پڑھنے کے بعد اپنے کپڑے پر دھیان دیا تب پتا چلا کہ اُسے احتلام ہوگیا ہے اور پھر نماز ادا کرنے کے بعد معلوم ہوا تو اب زید نماز فجر دوبارہ پڑھے یا نہیں ؟ کیا زید کی نماز فجر ادا ہوگئی اگر نہیں ہوئی تو اب جو ادا کرے گا اسکو ثوابِ جماعت ملیگا یا نہیں ؟ مدلل حوالہ سے مزئین فرماکر شکریہ کا موقع دیں المستفی محمدعبدالجلیل اشرفی دیناجپور ممبر آف 1️⃣گروپ یارسول اللہ ﷺ

       جواب

صورت مسئولہ میں نماز ہی نہیں ہوئی چہ جائیکہ جماعت کا ثواب، پھر سے نماز کا اعادہ کرنا فرض ہے وقت ہے تو غسل کرکے فوراً پھر سے نماز ادا کرے وقت نکل گیا تو قضا پڑھے _ اب جو ادا کرے گا وہ قضا کہلائے گا ہاں قصداً ترک جماعت پر جو مواخذہ ہے وہ اس سے بری ہوگیا
بہار شریعت میں ہے نجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ ِتحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے (جلد اول حصہ دوم نجاستوں کے متعلق احکام) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

۲۲ جمادی الاول ۱۴۴۳ ھجری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے