تشہد میں کلمۂ شہادت کے :لا: پر انگلی کیوں اٹھاتے ہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرما تے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ، تشہد میں لفظ، لا،پر کیوں اٹھائ جاتی ہے ؟ زید نے بکر سے جب پوچھا کہ تشہد میں لفظ ، لا،پر انگلی کیوں اٹھاتے ہیں تو بکر نے کہا اس لۓ انگلی اٹھاتے ہیں کہ اللہ کے سوا اور بھی معبود ہے اور وہ محمد ﷺ ہیں، استغفر اللہ، بکر پر کیا حکم شرع ہے، کافی بحث ہو رہی ہے کہ بکر نے غلط کہا ہے لیکن مان نے کو راضی نہیں ہے؟ مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں؟ المستفی محمد شاکر رضوی جہان آباد ضلع فتح پور الھند

       جواب

تشھد میں کلمہ ”لا“ پر انگلی کا اٹھانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح ہم دل اور عضو مضمر سے اس کی وحدانیت کا تصدیق و اقرار کرتے ہیں اسی طرح ایک عضو ظاہر {انگشت شہادت} سے بھی اس کی طرف اشارہ و دلیل قاٸم کرتے ہیں
جیسا کہ صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سنن نماز میں ارشاد فرماتے ہیں شہادت پر اشارہ کرنا، یوں کہ کے چھنگلیا اور اس کے پاس والی کو بند کر لے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا حلقہ باندھے اور ”لا “پر کلمہ کی انگلی اٹھائے اور الا پر رکھ دے اور سب انگلیاں سیدھی کر لے حدیث میں ہے جس کو ابو داؤد و نسائی نے عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے {تشھد میں کلمہ شہادت پر پہنچتے} تو انگلی سے اشارہ کرتے اور حرکت نہ دیتے نیز ترمذی و نسائی و بیھقی ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی، کہ ایک شخص کو دو انگلیوں سے اشارہ کرتے دیکھا فرمایا ”تو حید کرتوحید کر {ایک انگلی سے اشارہ کر} بہار شریعت ج ١ سنن نماز مطبوعہ مکتبة المدینہ اب رہی یہ بات کہ زید نے بکر سے پوچھا کہ تشھد میں انگلی کیوں اٹھاتے ہو تو بکر کا یہ کہنا کہ اس لیے اٹھاتے ہیں کہ اللہ کے سوا اور بھی معبود ہیں اور وہ محمد ہیں یہ کھلا ہوا شرک ہے کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جو ایسا نہ مانے صرف اللہ کو معبود نہ مانے دوسرے کو مستحق عبادت جانے وہ کھلا ہوا مشرک ہے
کقولہ تعالی وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ {پ ٢ البقرہ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍۘ فَاعْبُدُوْهُؕ {پ ٧ الانعام} بکر اپنے اس قول{اللہ کے سوا اور بھی معبود ہے اور وہ محمد ﷺ ہیں} کی بنیاد پر دائرہ اسلام سے نکل گیا اور اب کہنے کے بعد غلط کو غلط ماننے کے لۓ راضی نہیں ہو رہا ہے لہذا بکر پر دلائل پیش کیے جائیں اور اس سے کہا جائے کہ اپنے قول سے رجوع کرے اور توبہ و استغفار تجدید ایمان تجدید بیعت اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اگر ایسا کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ تمام لوگ اس کا بائیکاٹ کر دیں اس کے یہاں آنا جانا کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا نکاح وغیرہ سب بند کر دیں اور اگر بغیر توبہ کۓ مر جائے تو اس کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھیں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجھانپوری

خادم مدرسہ دارارقم محمد میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے