2.19.2022

وہابی دیوبندی کا تحفہ لینا اور استعمال میں لانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علماء کرام کی بارگاہ میں عرض ہے ک اگر کوئی وہابی، دیوبندی، اہل حدیث تحفہ دے تو کیا میں اسے اپنے استعمال میں لاسکتا ہوں ؟ جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں المستفی غُلام ربّانی ممبئی

       جواب

وہابی،دیوبندی،اہلِ حدیث (خبیث) جتنے بھی باطل عقیدے والے ہیں سب اپنی عقاٸد باطلہ کے سبب کافر و مرتد خارج از اسلام ہیں اس سے کسی بھی طرح کا ربط و ضبط جاٸز نہیں اسی طرح تحفے تحائف بھی لینا دینا جاٸز نہیں
شارح بخاری فقیہ اعظم ہند سرکار مفتی شریف الحق امجدی رحمة للہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی دیوبندی سے میل جول رکھنا حرام ہے حدیث مبارکہ میں ولاتجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم نہ ان کے پاس اٹھو بیٹھو نہ ان سے کھاٶ پیو مزید فرماتے ہیں کہ دیو بندی یہاں سے جو تحفہ آٸے اس کو لینا بھی جاٸز نہیں فتاوی شارح بخاری،جلد،٣،صفحہ٢٧١) مسٸولہ مذکورہ میں نہ تحفہ لینا جاٸز نہ دینا جاٸز نہ اس کا استعمال کرنا جاٸز واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد جابر القادری رضوی

مقام جمشید پور، جھارکھنڈ، الہند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only