فجر کی سنت اذان سے پہلے پڑھ لیا تو کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کے فجر کی دو رکعت سنت اذان ہونے سے پہلے پڑھ لیں بعد میں معلوم ہوا کہ اذان ہونا باقی ہے تو کیا نماز ہوئی یا نہیں المستفی عبداللہ

       جواب

نماز ہو گئی اب دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں کیونکہ وقت شروع ہونے کے بعد آپ نے سنت ادا کی اسکا لوٹانا ضروری نہیں
جیسا کہ اللہ تبارک تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے کہ فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْۚ-فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَۚ-اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا ترجمہ پھر جب تم نماز پڑھ لوتو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے اللہ کو یاد کرو پھر جب تم مطمئن ہو جاؤ توحسب ِ معمول نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے (سورۃ النساء آیت نمبر ۱۰۳) معلوم ہوا کہ وقت ہو شروع ہو جانے کے بعد اگر سنت ادا کر لی تو اسکا لوٹانا ضرووی نہیں فقط والسلام واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے