غیر مسلم کی دکان سے سامان خریدنا کسیا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔ کی زید کا کہنا کی ایک غیر مسلم کے یہاں سامان خریدنا کسیا ہے ۔ مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائے ۔ حدیث کی روشنی میں جلد از جلد جواب سے نوازے المستفی قاری شہنواز نظامی ۔ مغلہاں شریف

       جواب

صورت مسئولہ میں غیر مسلم کی دکان سے سامان خرید سکتے ہیں کوئی حرج نہیں لیکن بہتر ہے کہ اپنے مسلم بھائی کی دکان سے خریدے اور اگر مسلمان کی دکان نہیں تو پھر خرید سکتے ہیں لیکن گوشت وغیرہ نہیں خرید سکتے بقیہ سامان لے سکتے ہیں کیونکہ انکا ذبیحہ حرام ہے
جیساکہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمہ سے فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا کہ جو شخص مسلمان باوجود سمجھانے کے مسلمان قصائی کو چھوڑ کرپُرانی رَوِش پر ضداً ہندو کھٹکوں (ایک ذات کا نام )کے یہاں پر گوشت لینے پر آمادہ ہو، اس پر کیا حکم ہے ؟آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا ایسا شخص حرام خوار حرام کار مستحق عذاب پر وردگار سزاوار عذاب نار ہے (فتاویٰ رضویہ جلد 20 صفحہ نمبر 282) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے