ماہ رمضان المبارک کے روزوں سے پہلے کون سے روزے فرض تھے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علماء کرام کی بارگاہ میں عرض یہ رمضان شریف کے روزہ سے پہلے کونسا روزہ فرض تھا جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی فقط والسلام المستفی زین العابدین رضا پتہ میر بہار منگل بازار روڈ نئی دہلی

       جواب

جی ہاں ماہ رمضان المبارک کے روزے سے پہلے بھی کچھ روزے فرض تھے
جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے کہ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ ترجمہ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے (سورۃ البقرۃ آیت نمبر 183)
اور تفسیر عزیزی میں ہے حضرت سیدنا آدم صفی اللہ علی نبیناوعلیہ الصلوۃ وَالسَّلام پر ہر مہینے کے ایام بیض( یعنی چاند کی13 14،15تاریخ ) کے تین روزے فرض تھے۔اور یہود(یعنی حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام کی قوم )پر یومِ عاشورا( یعنی 10 محرَّمُ الْحرام کے دن) اور ہر ہفتے میں ہفتے کے دن(یعنی سنیچر) کا اورکچھ اور دنوں کے روزے فرض تھے اور نصاریٰ پر ماہِ رمضان کے روزے فرض تھے (بحوالہ تفسیرِ عزیزی جلد 01 صفحہ نمبر 771) نوٹ معلوم ہو گیا کہ پہلے بھی روزے فرض تھے لیکن امت محمدیہ کی طرح نہیں فقط والسلام واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے