خطبہ کی اذان کے بعد موذن باہر رہے یا اقامت کی جگہ پر

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان ذی احترام کہ جمعہ کی اذان ثانی کے بعد موذن مسجد کے دروازے پر ہی بیٹھ جائیں یا اقامت کے جگہ تک آسکتے ہیں المستفی محمد صدام حسین ۔ناگپور

       جواب

موذن جمعہ کی اذان ثانی یعنی خطبہ سے پہلے والی اذان مسجد کے دروازہ پر دینے کے بعد صف اول میں جاسکتا ہے جبکہ اس کے لیے مسجد میں راستہ ہو اور گردنیں پھلانگنا نہ پڑے ورنہ اذان دے کر صف آخر میں جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائے
جیساکہ فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے جبکہ مسجد کے اندر جانے کے لیے راستہ ہو تو موذن مسجد کے دروازے پر اذان ثانی دے کر اقامت کے لیے صف اول میں جا سکتا ہے ۔ اھ جلد اول صفحہ نمبر ۲۴۰ مطبوعہ فقیہ ملت اکیڈمی
اور فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے بےشک موذن اذان ثانی باہر دینے کے بعد اقامت کے لیے مسجد کے اندر جائے بالخصوص جبکہ لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کا کوئی معاملہ نہ ہو اور درمیان میں اس کے جانے کے لیے راستہ چھوڑ دیا گیا ہو۔ اھ جلد اول صفحہ نمبر ۳۰۶ مطبوعہ فقیہ ملت اکیڈمی اوجھا گنج بستی
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے و لا یتخطی رقاب الناس للدنو من الامام و ذکر الفقیہ ابو جعفر عن اصحابنا رحمھم الله تعالٰی انہ لا بأس بالتخطی ما لم یأخذ الامام فی الخطبة و یکرہ اذا اخذ۔ اھ

جلد نمبر ۱ صفحہ نمبر ۱۴۸ مطبوعہ زکریا بک ڈپو
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابوعبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہانپوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے