دوران اعتکاف درس دینا کیسا نیز سحری کا اعلان کرنا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی امام اعتکاف میں بیٹھے تو کیا سحری کا اعلان یا درس وغیرہ جوکہ لڑکی بھی آتی ہے پڑھنے تو کیا حکم ہے جواب عنایت کریں المستفی نورمحمد رضوی مقام سگھارا ضلع دھنوشا ( نیپال)

       جواب

صورت مستفسرہ میں شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ معتفک حالت اعتکاف میں دنیی کتابیں دوسروں کو بلا شبہ پڑھا سکتا ہے کوئی حرج نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اجرت لیکر نہ پڑھائیں کیونکہ مسجد میں اجرت لیکر پڑھانا درست نہیں
جیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رضوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں معتکف نہ چپ رہے نہ بات کرے بلکہ قرآن شریف کی تلاوت حدیث کی قرأت اور درود شریف کی کثرت کرے اور علم دین کا درس و تدریس کرے انبیاء و اولیاء و صالحین کے حالات پڑھے یا دینی باتیں لکھے (بہار شریعت جلد 01 حصہ 05 اعتکاف کا بیان مسئلہ نمبر 37 مکتبہ دعوت اسلامی) اور سحری کے اعلان کے تعلق سے فتاویٰ امجدیہ میں ہے کہ فنائے مسجد جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضرویات مسجد کے لئے ہے مثلاً جوتا اتارنے کی جگہ اور غسل خانہ وغیرہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا بلا اجازت شرعیہ اگر نکل کر باہر چلا گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا فنائے مسجد اس معاملہ میں حکم مسجد میں ہے سحری کے اعلان کے لئے فنائے مسجد میں جاسکتا ہے

(فتاویٰ امجدیہ جلد 01 صفحہ نمبر 399)
نوٹ معلوم ہوا کہ معتکف درس بھی دے سکتا ہے لیکن خاص بات کا خیال رکھیں کہ بالغ بچیوں کو نہ پڑھائیں کیونکہ اس میں فتنے کا اندیشہ ہے اور اعلان بھی کر سکتا ہے فقط والسلام واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے