فاسق امام کی اقتداء میں نماز عید پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  عیدین کی نمازکی ادائیگی کے لیے صرف فساق ہی رہ گئے ہوں تو کیا کریں آیا انہیں فاسقوں میں سے کوئی ایک امامت کر سکتا ہے؟ جبکہ فاسق کی امامت جائز نہیں تواس صورت میں کیا کریں عند الشرع کیا حکم جاری ہوگا آیا کسی فاسق کو امام بنایا جائے یا پھر ان لوگوں پر عیدین کی نماز واجب ہی نہیں ہوئی؟ المستفی محمد اسماعیل رضوی

       جواب

ان میں کوئی فاسق غیر معلن ہو تو اسے امام کیا جائے اور اگر سبھی فاسق معلن ہوں اور دوسری جگہ جماعت میسر نہیں تو صرف جمعہ وعیدین کے لیے ان فساق میں موجود اعلم کو مقدم کیا جائے. اس وجہ سے کہ غیر فاسق معلن امام موجود نہیں، ترک جمعہ وعیدین کی اجازت نہیں دی جا سکتی بخلاف دیگر نمازوں کے.
قال الإمام رحمه الله: جہاں جمعہ یا عیدین ایک ہی جگہ ہوتے ہوں اور ان کا امام بدعتی (اعتقادا فاسق) یا فاسق معلن (عملا فاسق) ہے اور دوسرا امام نہ مل سکتا ہو وہاں ان کے پیچھے جمعہ و عیدین پڑھ لئے جائیں بخلاف قسم اول مثل دیوبندی وغیرہم، نہ ان کی نماز نماز ہے نہ اُن کے پیچھے نماز نماز ، الغرض وہی جمعہ یا عیدین کا امام ہو اور کوئی مسلمان امامت کے لئے نہ مل سکے تو جمعہ و عیدین کا ترک فرض ہے جمعہ کے بدلے ظہر پڑھیں اورعیدین کا کچھ عوض نہیں

(فتاوی رضویہ، ٦٢٦/٦)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی

مقام گونڈی ممبئی مہاراشٹر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے