فی زمانہ 1500 /2000/میں قربانی کا شرعی حکم

Gumbade AalaHazrat

سوال
  سوال یہ ہے کہ فی الحال جو حصہ والی قربانی ہے مثلاً کہی ١٥٠٠ کہی ٢٠٠٠ تو کیا ایسی قربانی کرانے والی کی قربانی نہیں ہوگی؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسی قربانی کرانے سے واجب ادا نہیں ہوگا ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ المستفی محمد صابر احمد اتر دیناج پور بنگال

       جواب

ہمارے یہاں جو طریقہ رائج ہے وہ یہ ہے کہ سات لوگوں کا روپیہ ایک بڑے جانور میں لگایا جاتا ہے پھر انہیں گوشت دیا جاتا ہے یا گوشت غرباء میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔ اکثر حصہ دار اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ وہ گوشت قربانی کے جانور کا ہے یا غیر کا کس قدر گوشت انہیں ملا ہے کن لوگوں میں وہ گوشت تقسیم کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس طریقے سے بھی قربانی ادا ہوجاتی ہے ہمیں بدگمانی نہیں چاہیے، لازم ہے کہ ہم بھروسے لائق مسلمان تنظیموں کو ہی روپیہ دیں اور ان پر حسن ظن رکھیں محض گمان کی بنا پر قربانی کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا کہ اس کے لیے گواہی ضروری ہے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابن علیم المصبور الرضوی العینی

گونڈی ممبئی مہاراشٹر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے