بغیر چہرے والی تصویر کا کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بغیر چہرے والی تصویرکے بارے میں کیا حکم ہے۔مفصل جواب عنایت فرماکر ثوابِ دارین حاصل کریں فقط والسلام المستفی محمد عاشق رضوی

       جواب

مذہب اسلام میں تصویر کشی حرام اشد حرام ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن تصویر کشوں کے لئے سخت عذاب کی وعید ارشاد فرمائی ہے
چنانچہ ارشاد فرمایا ان اشد الناس عذابا عند اللہ المصورون
دوسری جگہ یوں ارشاد فرمایا لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ کلب ولا تصاویر

(صحیح بخاری ج۲ص٤٠٤,٤٠٥مکتبہ رحمانیہ)
اب تصویر کسے کہیں گے تو اس سلسلہ میں
فقیہ اعظم ہند شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں تصویر ذی روح کے چہرے بنانے کا نام ہے حرام ذی روح کا چہرہ بنانا ہے اس سے حرمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ تصویر کیسے بنائی گئی (نزہۃ القاری ج۵ص۵۵۱ فرید بک اسٹال اردو بازار لاہور) معلوم ہوا کہ وہ تصویر جس میں ذی روح کا چہرہ واضح ہو وہ حرام ہے اور ایسی ہی تصویر بنانے والا اشد عذاب میں گرفتار اور ایسی ہی تصویر در و دیوار پر آویزاں ہو تو تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے البتہ اگر وہی تصور سر بریدہ ہو تو اس میں اصلا کوئی کراہت نہیں
جیساکہ مجدد اسلام حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ رقمطراز ہیں اگر تصویر بے سر کی ہو یا اس کا سر کاٹ دیں تو کراہت نہیں
مزید فرماتے ہیں دیگر اعضا وجہ و راس کے معنی میں نہیں اگرچہ مدار حیات ہونے میں مماثل ہوں کہ چہرہ ہی تصویر جاندار میں اصل ہے ولہذا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی کا نام تصویر رکھا اور شک نہیں کہ فقط چہرہ کو تصویر کہتے اور بنانے والے بارہا اسی پر اقتصار کرتے ہیں اھ اور پھر سر کٹی تصویر کا حکم یوں بیان فرمایا بلکہ یہ جامع صغیر میں نص امام کبیر ہے
محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اذا کان راس الصورۃ مقطوعا فلیس بتمثال لاجرم یعنی امام محمد روایت کرتے ہیں یعقوب امام ابو یوسف سے وہ امام اعظم ابو حنیفہ سے راوی کہ انہوں نے فرمایا جب تصویر سر کٹی ہو تو مجسمہ نہیں لا جرم امام نسفی نے وافی میں تصریح فرمائی کہ اگر تصویر کا سر مقطوع نہیں کراہت مدفوع نہیں ۔۔۔۔۔ظاہر ہے کہ نیم قد یا سینہ تک کی تصویر پر بھی صادق ہے کہ اس کا سر مقطوع نہیں تو حکم منع مدفوع نہیں (ملخصا تصویر کا حکم ص ١٣-١٥اسلامک ریسرچ سینٹر بریلی شریف) ان تمام تفصیلات سے معلوم ہواکہ تصویر کسی جاندار کے چہرہ کے بنانے کا نام ہے اور چہرہ والی تصویر ہی حرام ہے کہ اگر ایسی تصویر در و دیوار پر آویزاں ہو تو نماز مکروہ ہے لیکن اگر تصویر چہرہ سے خالی ہو یا چہرہ کاٹ دیا جائے یا محو کر دیا جائے تو اب اس پر حرمت کا قول نہ کیا جائے گا اور نہ ہی ایسی تصویر کے کہیں ہونے سے نماز میں کوئی خلل واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی کشنگنج

کشن گنج بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے