آکٹوپس( octopus)کھانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام کے octopus 🐙🦑 کھانا حلال ہے یا حرام جواب عنایت فرمائیں؟ المستفی محمد وسیم رضا مقام! سہڑی خواجہ پونچھ جموں وکشمیر

       جواب

فی السوال ذکر کردہ جانورحرام ہے کیوں کہ پانی کےجانوروں میں سواۓ مچھلی کے تمام جانور حرام ہے یہاں تک کہ اگر مچھلی اپنی طبعی موت مرکر تیرنےلگی تو یہ مچھلی بھی حرام ہے
علامہ شیخ محمد علاء الدين الحصكفی ابن الشيخ علی الحنفی متوفّٰی ١٠٨٨ھ تحریر فرماتے ہیں (وَلَا) يَحِلُّ (حَيَوَانٌ مَائِيٌّ إلَّا السَّمَكُ) الَّذِي مَاتَ بِآفَةٍ وَلَوْ مُتَوَلِّدًا فِي مَاءٍ نَجِسٍ

الدرالمختار ، المجلدالتاسع ،کتاب الذباٸح ، ص ٥١١
علامہ شیخ نظام الدین حنفی متوفی ١١٦١ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت میں تحریر فرمایا ہے أَمَّا الَّذِي يَعِيشُ فِي الْبَحْرِ فَجَمِيعُ مَا فِي الْبَحْرِ مِنْ الْحَيَوَانِ يَحْرُمُ أَكْلُهُ إلَّا السَّمَكُ خَاصَّةً فَإِنَّهُ يَحِلُّ أَكْلُهُ إلَّا مَا طَفَا مِنْهُ الفتاویٰ الھندیة ، المجلدالخامس ، کتاب الذباٸح ، ص ٣٥٧ {بیروت لبنان}
حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتےہیں پانی کے جانوروں میں صرف مچھلی حلال ہے ۔جو مچھلی پانی میں مر کر تیر گئی یعنی جو بغیر مارے اپنے آپ مر کر پانی کی سطح پر اولٹ گئی وہ حرام ہے بہارشریعت ، حصہ ١٥ ، ص ٣٢٤ {قادری کتاب گھر} واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

مقام مقام دھونرہ ٹانڈہ ضلع بریلی شریف یوپی ١٧ ذی الحجہ ٣٤٤١؁ھ بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے